ابن رشد

by Other Authors

Page 79 of 161

ابن رشد — Page 79

"He did not take the center of the deferent (in the model of the upper planets) to be halfway between the equant and the center of the universe without proof"۔نے بھی اس سائنسی مسئلہ پر ریسرچ کی تھی: "He blamed Ptolemy for not being Aristotelian enough, taking him to task mainly in the context of his own commentary on Aristotle's Metaphysics۔" (Page 75) غرضیکہ بطلیموس کے نظام بحیت کا متبادل نظام پیش کرنے یا اس میں اصلاح کرنے میں جن اندلسی ماہرین بیت نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان میں درج ذیل نام قابل ذکر ہیں: المطر و جی اور جابر ابن الصلح۔یہاں دو مؤخر الذکر ہیئت دانوں کے مختصر حالات زندگی پیش کئے جاتے ہیں : نورالدین البطر و جی (1204ء) اپنے دور کا نا میر اور ممتاز ہئیت داں تھا۔اس کی تصنیف کتاب فی الهیئته کا ترجمہ مشہور مترجم مائیکل اسکاٹ نے 1217ء میں ٹولیڈو میں کیا۔برکلے، امریکہ سے یہ 1952ء میں شائع ہوا۔عبرانی میں اس کا ترجمہ دی آتا ہے 1531ء میں طبع ہوا۔اسطر و جی فلکی مشاہدات کرتے ہوئے انسانی حواس پر زیادہ اعتبار نہیں کرتا تھا کیونکہ مشاہدہ کرنے والے اور ملکی کروں کے مابین فاصلہ بہت لسا تھا۔کو پر ٹیکس کے دور تک یورپ کے عالموں پر اس کے سائنسی نظریات کا گہرا اثر تھا۔کوپرنیکس نے اس کا ذکر اپنے علمی شاہکار ڈی ریود لیونی بس ( De Revolutionibus) میں کیا ہے اس کے زبر دست علمی اور سائنسی کارناموں کے پیش نظر چاند کا ایک حصہ مارے نیک نارس ( Mare Nectaris) اس کے نام سے منسوب ہے۔کتاب فی الهئیته کا انگریزی ترجمہ عربی متن کے ساتھ برنارڈ گولڈ اسٹین نے Al-Bitnji: On Principles of Astronomy کے عنوان سے امریکہ سے 1971ء میں شائع کیا تھا۔جابر ابن افلح (وفات 1200ء) بارہویں صدی کا سب سے افضل ہیت داں اور ریاضی داں تھا۔اس کی عمر کا زیادہ حصہ اشبیلیہ میں گزرا۔اس کا علمی شاہکار اصلاح المجسطی تھا۔اس کا عربی قلمی نسخہ برلن لائبریری میں موجود ہے۔اس کتاب کی زبر دست افادیت کے پیش نظر جیرارڈ آف کر یہونا نے اس کا ترجمہ لاطینی میں کیا۔1274ء میں اس کا ترجمہ عبرانی میں کیا گیا۔اس کتاب میں جابر نے بطلیموس کے بہیت کے نظریات پر کڑی تنقید کی اور اس کے کئی نظریات سے اختلاف کر کے متبادل نظریات پیش کئے۔بطلیموس کی بیان کردہ غلطیوں کو اس نے واضح 79