ابن رشد

by Other Authors

Page 80 of 161

ابن رشد — Page 80

طور پر بیان کیا۔اشبیلیہ کے ٹاور لاجیرالڈا (La Geralda) جو کبھی جامع مسجد کا مینارہ ہوا کرتا تھا ، میں رات کے وقت گھنٹوں تنہائی میں بیٹھ کر اس نے کئی سال تک فلکی مشاہدات کئے۔راقم السطور نے یہ تین سوفٹ اونچاد دکش مینارہ 1999ء میں اپنین کی سیاحت کے دوران دیکھا تھا۔مینار کے اندر سیٹرھیوں کے بجائے ریمپ ( ramp) ہے چنانچہ موزن گھوڑے پر سوار ہو کر آخری منزل پر جا کر اذان دیا کرتا تھا۔آخری منزل پر چاروں رخ کھڑکیاں ہیں جن سے ملحق بالکونی بنی ہوئی ہے اس لئے انسان اونچے مقام سے باآسانی آسمان کا مشاہدہ رات کے وقت کر سکتا ہے۔اس کی تصنیف کتاب الهئیته میں ایک باب اسفیریکل اسٹرانومی (Spherical Astronomy) پر ہے جس سے یوروپ میں نزیگنیومیٹری کے علم میں توسیع ہوئی۔1970ء میں مانچسٹر یو نیورسٹی ( برطانیہ ) میں ایک طالب علم آر پی لارچ R) P۔Lorch) کو جا بر اینڈ ہر انفلوئیس ان دی ویسٹ Jaber and His) Influence in the West مقالہ لکھنے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔میں نے مسٹر لا رچ سے 2004 ء میں ای میل کے ذریعے رابطہ قائم کیا تا کہ یہ مقالہ حاصل کر سکوں، لیکن مائیکر فلم پر ہونے سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ایک اور مصنف کی رائے مصنف ٹامس گلک (Glick) کہتا ہے کہ اندلس کی تصیور نیکل اسٹرانومی کا ایک خاص فیچر یہ تھا کہ وہاں کے بیت واں ارسطو کے نظام کو بطلیموس کے نظام پر ترجیح دیتے تھے۔البطر و جی چاہتا تھا کہ بطلیموسی نظام میں سے الافلاک الخارجات المراکز اور الافلاک احمد اویر (epicycle) کو خارج کر کے ان کی جگہ کرے (spheres ) رکھ دئے جائیں۔ابن باجہ اور ابن طفیل بھی افلاک امدادیر کے خلاف تھے۔جبکہ الافلاک الخارجات المراکز اور الافلاک الند اور کے خلاف دلیل یہ دیتا تھا کہ " بطلیموس سے پہلے کے موجود علم ہیت کا بحال کیا جانا لازمی تھا کیونکہ وہی تو اصل علم بعیت تھا جو طبیعی قوانین کے نقطہ نظر سے قابل اعتبار تھا۔" Pre-Ptolemaic astronomy had to be retrieved, for it is the true astronomy that is possible from the standpoint of physical principles۔(32) اور نیوٹن اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک کے سابق پروفیسر ویرین بولوگ (Vern Bullough) نے اپنے مضمون Medieval Scholastics and Averroism میں لکھا ہے کہ قرون وسطی کی پیڈ وایو نیورسٹی (اٹلی) میں 80