ابن رشد

by Other Authors

Page 68 of 161

ابن رشد — Page 68

تصنیفات طب پر ہیں۔مسلمانوں نے علم طب انہی کتابوں سے اخذ کیا۔اس کے حکیمانہ مقولے دنیا بھر میں زبان زد عام ہیں۔جالینوس کہتا تھا کہ ہر طبیب کے لئے فلسفی ہونا ضروری ہے اور فلسفی وہ شخص ہے جو سچائی سے پیار کرتا ہے۔این رشد نے اس کی کتابوں کے خلاصے تیار کئے جیسے مقالہ فی اصناف المزاج ونقد مذهب جالينوس مقالة في حيلة البر - تلخيص كتاب المزاج لجالينوس - جب جالینوس کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے قال جالینوس اور پھر جب اس پر تبصرہ کرتا ہے تو کہتا ہے قلت۔نے جالینوس کے ان نظریات پر کڑی تنقید کی جوارسطو کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔مثلاً " جالینوس کا دو حوالہ جس میں ودان یونانی طبیبوں اور فلسفیوں کا ذکر کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ تمام نوع انسانی نے ایک عصر سے نمود پایا ہے کیونکہ چاروں عناصر ایک دوسرے میں منتقل ہو جاتے ہیں"۔بنی نوع انسان کی نمود کے اس نظریے پر جالینوس اور بقراط نے تنقید کی تھی۔یہ دونوں طبیب ارسطو سے اتفاق کرتے تھے کہ کسی چیز کے بننے میں یہ چاروں عناصر شامل ہوتے ہیں بشمول انسان کے جسم کے۔ارسطو نے یہ بھی کہا کہ چاروں عناصر ایک دوسرے میں تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔چونکہ یہ دونوں طبیب ارسطو کے نظریات سے اتفاق کرتے تھے اس لئے بھی ان سے اتفاق کرتا تھا۔جالینوس کی کتاب آرٹ آف ہیلنگ ( حيلة البسر) میں مذکور ہے کہ جہاں تک معالجے کا تعلق ہے عموماً طبیب علاج کے وقت یہ مقولہ مد نظر رکھتے ہیں: Opposite heals its opposite and the like heals its like۔فلاسفہ کا اس کے برعکس کہنا ہے کہ: "Healing consists in the progress from one given principle to another in accordance with a fixed procedure directed towards a desired result۔" کہتا تھا کہ نہ صرف معالجہ بلکہ تمام طبی تدابیر میں طبی و فطری طریقے کو مد نظر رکھنا چاہئے کیونکہ فطرت کے شفا کے طریقے انسانی طریقوں سے حد درجہ فائق ہیں۔چنانچہ صحت کی بحالی کے لئے شفا کے فطری طریقوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔جسمانی ورزش اکسل ، مالش جیسے اعمال سرجری اور دواؤں سے زیادہ موثر ہوتے ہیں۔جب کوئی طبیب مریض کا علاج کرتا ہے تو وہ فطرت کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے ایک خاص مقصد کی طرف رہنمائی کر رہا ہوتا ہے ، یہ مقصد یا تو مرض کا خاتمہ یا پھر صحت کی بحالی ہوتا ہے۔ارسطو کی کتاب پاروانا طور الیا (Parva Naturalia) سے حوالہ دیتا ہے کہ اکثر مریض جو موت کا نشانہ بن جاتے ہیں وہ غلط دوا کی وجہ سے نہیں بلکہ طبیب کی غلطی سے بنتے ہیں۔ارسطو کا مطلب اس حکمت کی بات میں کچھ بھی مخفی ہو اس سے اتفاق کرتا 68