ابن رشد — Page 69
ہے کہ طب کی نظری اور عملی تعلیم کے لئے منطق اور طبیعیات کا علم لازمی شرط ہے۔یورپ میں کی شہرت اور قدر کی اصل وجہ یہ تھی کہ یورپ کے عالم نئے نئے فلسفے سے آشنا ہوئے تھے۔فلسفے کا مطالعہ ارسطو کے مطالعے کے بغیر ناممکن تھا اور ارسطو کا مستند شارح تھا۔اس لئے وہاں کی شہرت اس کی طبعی اور فلسفیانہ کتابوں کی بدولت ہوئی۔طب میں جو شہرت ابن سینا کی القانون کو یورپ میں حاصل ہوئی وہ کی الکلیات کو نصیب نہ ہو سکی۔طب میں جالینوس کا پیرو کار تھا لیکن جہاں جالینوس نے ارسطو سے مختلف نقطہ نظر بیان کیا ، وہاں نے ارسطو کے نظریے سے اتفاق کیا جیسے ارسطو اور جالینوس میں ایک نزاعی مسئلہ یہ تھا کہ دماغ اور دل میں سے کسی عضو کورئیس الاعضاء کی حیثیت حاصل ہے؟ ارسطو کے خیال میں یہ دل تھا مگر جالینوس کے مطابق یہ دماغ تھا۔نے اس مسئلے میں ارسطو سے اتفاق کیا۔اور علم الادویہ کتاب الکلیات کے پانچویں باب الادويه والاغذيه " میں نے القول فی قوانین التركيب (Rules of Composition) کے عنوان سے ادویہ کی ترکیب د تیاری کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔اس باب کے مطالعے سے علم الادویہ میں اس کی گہری معلومات اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔نے لکھا ہے کہ طبیب دوا دیتے وقت مفرد دوا کے بجائے مرکب دواد ینے پر کیوں مجبور ہو جاتا ہے؟ اس کی اس نے تین جہیں بیان کی ہیں: مفرد و وا مطلوبہ خواص میں دستیاب نہیں۔مفرد دوا میں مطلوبہ خواص تو ہیں مگر مطلوبہ مقدار میں نہیں۔مفرد دوا میں کوئی ایسی خاصیت ہے جو مریض کے لئے مضر ہے۔مثال دیتا ہے کہ اگر جلاب آور دوا تیار کرنی ہو اور اس کے لئے چار قسم کی مفرد دوائیں درکار ہوں تو طبیب ہر دوا کا چوتھائی حصہ لے کر مشروب تیار کرے۔غرض یہ وہ جامع دستور اور قوانین ہیں جن کا استعمال کمیت کے لئے کیا جاتا ہے۔اس کا کہنا تھا کہ انسانی جسم کے دوا سے رد عمل کو قبل از وقت دوا کے جزئیات کا تجزیہ کر کے (جن سے مرکب دوا بنتی ہے ) بیان نہیں کیا جاسکتا۔"The actions of drugs upon bodies are only a relative matter۔In truth, this is not something that is consequent upon the parts of the drug itself۔It may happen that a drug that is itself less hot will be, relative to the human 69