ابن رشد

by Other Authors

Page 42 of 161

ابن رشد — Page 42

ورثہ میں ملا تھا جبکہ یونانی علوم اور علوم عقلیہ میں ذاتی مطالعہ سے کمال حاصل کیا تھا۔آج کل ایسے شخص کو سیلف ناٹ مین (self-taught man) کہا جاتا ہے۔جارج سارٹن کی رائے میں وہ پیدائشی عبقری نہ تھا بلکہ جو کچھ حاصل کیا وہ نذیر اور تفکر سے حاصل کیا: Ibn Rushd was not a creative genius, but a purely reflecting one۔(12) کی تصنیفات کے موضوعات درج ذیل ہیں۔صرف و نحو، اصول فقہ، علم کلام، منطق، فلسفه علم الاخلاق علم النفس، طبعیات، سیاسیات، علم الحیوان علم الابدان، علم فلکیات ، طلب بظاہر کی تصنیفات میں کوئی خاص جدت نہیں پائی جاتی مثلا طب میں اس کی معلومات جالینوس کی کتابوں تک محدود تھیں۔اس کا فلسفہ اگر چہ ارسطو سے ماخوذ ہے لیکن اس نے چابکدستی سے اس کو اندلس کے ماحول اور اسلامی روایات کے مطابق ڈھالا ہے۔اس کی فقہ وہی تھی جو اس کے معاصرین کی تھی۔اس کی الکلیات فی الطب' کو بوعلی سینا کے القانون فی الطب جیسی پایه دار شہرت حاصل نہ ہوسکی۔لیکن کا خاص امتیاز اس کی قوت تنقید ہے۔تحصیل علم کے لئے قوت تنقید بنیادی چیز ہے جو اس زمانے کے مسلمانوں میں کم پائی جاتی تھی، زیادہ تر لوگ تقلید کرتے تھے۔نے اجتہاد سے کام لیا اور نئے نئے خیالات و مشاہدات سے اندلس کے افق علمی کومنور کیا۔وہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار اس وضع سے کرتا تھا کہ اس سے قول فیصل کی صدا آتی تھی۔یہ اس لئے کہ اس کی عبارت کی ساخت میں استدلال کی اینٹیں لگی ہوتی تھیں۔تحریرہ میں پختگی اور صلابت بڑی کاوشوں کے بعد اس کو حاصل ہوئی تھی۔عربی زبان کے سوا اس وقت کی دیگر علمی و سائنسی زبانوں سریانی ، فارسی، لاطینی، یونانی بلکہ طرفہ یہ کہ اپنی وطنی زبان اسپینش سے بھی نا واقف تھا۔اس نے ارسطو کی تصنیفات کی شرحیں اور خلاصہ جات ان عربی تراجم کی روشنی میں مرتب کئے ، جو تین سو سال قبل حسین ابن الحق، الحق ابن حسنین، ابو بشرمتی پٹی بن عدی ، ثابت ابن قرة نے بغداد میں کئے تھے۔نے کئی یونانی الفاظ کے متبادل الفاظ عربی میں خود وضع کئے جیسے افلاطون کی کتاب کی شرح لکھتے ہوئے لیجسلیٹر ( legislator ) کا ترجمہ اس نے صاحب الشريعة ( ما شرآف لا) کیا۔مذہبی قانون کے لئے یونانی لفظ نوموس (Nomos) کا ترجمہ اس نے شریعت کیا۔اسی طرح حج کے لئے یونانی لفظ کا ترجمہ اس نے (بجائے قاضی کے ) حکیم کیا کیونکہ اس لفظ کی اصل حکم ( دانائی) ہے۔نے جہاں ترجمہ میں نقص پایا ، وہاں اس نے ترجمہ خود کیا اور ارسطو کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ کر اسے بہتر طریق سے ادا کیا۔مثلاً ارسطو اپنی کتاب الجدل (Rhetoric) کی ابتداء میں مدعی ، حج ، اور قانون ساز کی بات 42