ابن رشد — Page 41
تھا۔جنہیں آجکل ہم پوسٹ پہلی کیشن نوٹس کہتے ہیں۔مجموعہ یا جوامع کی مثال کے طور پر ارسطو کی پانچ کتابیں ہیں: Physics, De Caelo et Mundo De Generation el Corruption, Meteorologica اور Metaphysica۔ان میں اس نے ارسطو کے خیالات کو ترتیب وار پیش نہیں کیا ہے۔شرح متوسط کی مثال ارسطو کی کتاب کیٹیگوریز (Categories) بھی ہے جس میں ہر پیراگراف کے آغاز میں قبال ارسطو لکھ کر پھر اس کا اصل عربی متن پیش کیا ہے۔کیٹیو ریز کا انگریزی ترجمہ بوجھیں (Bouyges) نے کیا ہے جو 1932 ء میں شائع ہوا ہے۔کی کتابوں کا تنقیدی جائزہ بارہویں صدی کے جو ادیب اور عالم عربی زبان وادب میں مینارہ نور کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں کا نام سر فہرست ہے۔نے بالغ نظری اور سادو و پر کار اسلوب بیان کے ذریعہ عربی تنقید میں سنگ میل قائم کیا ہے۔اس میدان میں اس کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔این رشد نے اپنی گراں مایه نگارشات سے نہ صرف عروس البلاد قرطبہ کا نام روشن کیا بلکہ عربی زبان کے ایک عالمی بصیرت نگار کی حیثیت سے بھی شہرت دوام حاصل کی۔وہ جب اکتیس سال کی عمر کو پہنچا تو علوم حکمیہ و عقلیہ میں اپنی استعداد مکمل کرنے کے بعد، اس نے اپنا ذرخیز ذہن تصنیف و تالیف کی طرف متوجہ کیا۔قاضی القضاۃ کے عہدہ کے فرائض سر انجام دینے کے لئے اس کو شہروں اور صوبوں کے سرکاری دورے کرنے پڑتے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ کتابوں کے لکھنے لکھی ہوئی کتابوں پر نظر ثانی کرنے کا کام بھی شب و روز جاری رہتا تھا۔اکثر کتا ہیں اس نے بیحد مشغولیت کی حالت میں قلم بند کیں۔وہ جب اشبیلیہ میں قاضی تھا تو اس کی ذاتی لائبریری کی جملہ کتابیں قرطبہ میں تھیں اس کا ذکر اس نے کتاب الحیوان کے چوتھے حصہ کی شرح میں کیا ہے۔پھر ارسطو کی ایک اور کتاب کی شرح میں شکوہ کیا ہے کہ سرکاری کاموں کی مسجد سے فرصت نہیں ملتی۔زیادہ وقت دفتری کاموں میں صرف ہو جاتا ہے اور قلبی سکون میسر نہیں ہوتا جو تصنیف و تالیف کے لئے ضروری ہوتا ہے۔کتاب مختصر المجسطی کے مقالہ اولی میں لکھا کہ مجھے مجبور آصرف اہم مسائل کی حد تک رہنا پڑتا ہے کیونکہ میری مثال اس شخص کی سی ہے جس کے گھر کے چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہو اور صرف اتنا موقعہ ہو کہ جو اشیاء بے حد ضروری ہیں انہیں بچانے کے ساتھ اپنی جان بھی بچالے۔یہ باتیں اس کے ذوق تصنیف لگن ، اور دینی ارتکاز پر دلالت کرتی ہیں۔نے جن گونا گوں موضوعات پر قلم اٹھایاوہ اس کی فطری استعداد کی نماز ہیں۔دینی علوم کا علم اس کو 41