ابن رشد

by Other Authors

Page 34 of 161

ابن رشد — Page 34

شاعر تھا نیز اس کو بخاری شریف کے تمام تراجم یاد تھے۔اس کی وفات مراتش میں ذی الحجہ کے چاند کے اکیسویں روز 595 ہجری میں ہوئی"۔کو عربی کے علاوہ کسی اور زبان سے شناسائی حاصل نہ تھی۔اس لئے ارسطو کی کتابوں کی جو شر میں انہوں نے لکھیں ان کا انحصار سر اسران عربی تراجم پر تھا جو بغداد میں حسین ابن الحق ، اس کے بیٹے الحق ، بھانجے جیش ابن الاعصم ، اور عیسی ابن بیٹی وغیرہ نے آٹھویں اور نویں صدی میں کئے تھے۔نے کثیر تعداد میں کتابیں تصنیف کیں لیکن کسی کتاب میں بھی اپنی زندگی کے حالات درج نہیں گئے۔کتاب الکلیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ غذا کے معاملہ میں اس کو جو چیزیں سب سے زیادہ مرغوب تھیں ان میں جو کا پانی ( آش جو )۔چاول کی کھیر ، اور بینگن کی ایسی بھیجیا جو تیسے میں زیتون کے تیل میں بھنی ہوئی ہو۔پھلوں میں انگور اور انجیر بہت پسند تھے۔افسوس کہ اس عظیم المرتبت مفکر اور حکیم کو مغرب نے سر آنکھوں پر بٹھایا لیکن مشرق میں وہ صد ہا سال تک گمنام رہا۔34