ابن رشد — Page 131
آزادی فکر (Free Thought) ختم ہوگئی اور مذہب کی غلط ترجمانی شروع ہوگئی۔1198ء میں چھ سو سال جمع کرنے پر تاریخ 1798 بنتی ہے جب فرانس نے نپولین کی قیادت میں مصر پر قبضہ کر لیا۔رینان کا دعوی ہے کہ نپولین کے مصر میں آنے سے اسلامی دنیا میں جدیدیت (Modernity) کا آغاز ہوا۔یورو چین مورخ اس چھ سوسال کے عرصے کو اسلامی دنیا کا تاریک دور (Dark Age) خیال کرتے ہیں لیکن ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ اس عرصہ میں ہندوستان میں مغل حکومت اور ترکی میں سلطنت عثمانیہ نے جو کارنامے سرانجام دئے وہ اپنی جگہ قابل قدر ہیں۔رینان نے کی وفات کی تاریخ کو اسلامی دنیا کے ذہنی اور علمی زوال کا نقطہ آغاز قرار دیا تو مشرق و مغرب میں اس نقطہ نظر کو اس قدر قبولیت حاصل ہوئی کہ گویا یہ خیال فیشن بن گیا۔ایک اور مصنف کو گل من (Kugelgen) کے مطابق کی موت ( تاریخی نقطۂ نظر سے ) مغربی اور اسلامی تعقل کی تاریخ کے لئے نقطه انقلاب ( Turning Point) بن جاتی ہے۔یورپی کلچر کے عروج کی علامت اور اس۔بے اعتنائی اسلامی کلچر کازوال ہے۔وہ کہتا ہے۔"Averroes' death becomes the turning point for European as well as Islamic intellectual history۔Averroes becomes the symbol of the rise of European culture; to neglect him stands for the downfall of Islamic culture۔" (56) یہ قابل ذکر ہے کہ جمال الدین افغانی اور رینان کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ رہا۔قاہرہ یونیورسٹی میں رینان کی یاد میں ایک اجلاس 1923ء میں منعقد ہوا تھا۔میکس ہورٹن (Max Horton) میکس ہورٹن (1874-1945ء) نے اپنی ساری زندگی اسلامی فلسفہ کے مطالعے میں گزاری۔اس نے فارابی، ابن سینا، رازی شیرازی، طوق، رشید رضا اور محمد عبدہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا۔ابن سینا کے بعد اس نے ابن رشد کی زندگی پر بہت کچھ لکھا مثلاً تهافت النحافة کا اس نے جرمنی میں خلاصہ تیار کیا نیز کی میٹا فزکس پر کتاب لکھی۔اس کے نزدیک اسلام اور قرآن کا دلائل سے ثابت کر نے والا سب سے بڑ ادائی Apologist for Islam & Quran) تھا۔131