ابن رشد — Page 132
ارنسٹ بلاک (Ernst Bloch) ارنسٹ بلاک (1885-1977 ء ) ممتاز جرمن فلسفی تھا اس نے ابن سینا اور کے فلسفیانہ خیالات کو اپنے فلسفے کا حصہ بنایا۔سولہ سال تک تو بنگن (Tubingen) یونیورسٹی (جرمنی) میں پروفیسر رہا۔اس کے نزدیک ابن سینا، ابن طفیل اور نے سیکولر نظام کو مذہبی نظام سے الگ کر کے مذہب اور فلسفے میں امتیازی فرق بیان کیا۔اس کے نزدیک ابن سینا اور وحدت الوجودی تھے۔مذہب کے طوق سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے وحدت الوجود کا عقیدہ بنیادی شرط ہے۔وہ کہتا تھا کہ ابن سینا اور نیچر لسٹ (Naturalist) بھی تھے۔ہر مسن لے (Herman Ley) ہر سن لے (پیدائش 1911 ء ) مشرقی جرمنی میں عہد وسطی کے فلسفے پر سند تسلیم کیا جاتا تھا۔وہ کے خیالات سے بہت متاثر تھا۔شام کے دو محقق طیب تازینی اور نیف بالوز بھی اس کے خیالات سے متاثر تھے۔جرمنی ہی کے فلسفی فریڈرک اینجلز نے کہا تھا کہ عربوں کا لائف سینٹرڈ فری تھاٹ (Life Centerod Free Thought) روم کے لوگوں سے بہت اعلیٰ تھا جس کی بناء پر مادیت اور مارکسزم کا آغاز ہوا۔ایک سوویت محقق اے۔وی۔گاریف (A۔Saghadeer) نے کی سوارغ پر کتاب لکھی اور کہا کہ کی تعلیمات سے ارسطو کی تعلیمات مادہ پرستی میں منتقل ہو گئیں۔اس کا ذکر گریٹ سوویت انسائیکلو پیڈیا میں بھی کیا گیا۔تا ہم ایک اور محقق نے کہا ہے کہ فارابی، ابن سینا ، غزالی اور نے اپنے فلسفے اور سائنس کا علم اسلام کے دفاع میں استعمال کیا۔ہمارے دور میں تیرہویں صدی سے لے کر سترہویں صدی کے نصف اول تک یورپ کے محققین ارسطو کی کتابیں کی تفاسیر کے ساتھ پڑھتے تھے۔اٹلی کے نامور مصور رافیل (Raphael) نے پلاسٹر کے اوپر ایک پینٹنگ بنائی جس کا نام وی اسکول آف ایتھنز (151011ء) ہے۔یہ وٹیکن (اٹلی) کے سٹیلا ڈیلا سکنا نورا (Stella della Segnatura) میں رکھی ہوئی ہے۔اس پینٹنگ میں کو فیا غورث کے پیچھے اس کے کندھوں کے اوپر سے دیکھتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔مصر کے فلم ڈائر یکٹر یوسف شاہین نے 1997ء میں ایک فلم ڈیس نینی ( Destiny) بنائی جس میں بنیاد پرستی سے پیدا ہونے والے خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔یہ فلم انہوں نے کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی تھی۔132