ابن رشد — Page 100
کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لئے ہے۔درخت اپنا پھل خود نہیں کھاتے، دریا اپنا پانی خود نہیں پیتے۔پس وہی زندگی نظام کائنات کے مطابق ہو سکتی جو دوسروں کے لئے ہو۔(40) (9) (1198ء) کی فلسفیانہ کتابوں نے یورپ کے علمی حلقوں اور دانشوروں پر تیرہویں سے سولہویں صدی تک گہرا اثر چھوڑا۔اس نے فلسفہ اور طب میں نہایت اعلیٰ پایہ کی کتا بیں تصنیف کیں۔یورپ میں اس کی شہرت کو ارسطو کی کتابوں کی فقید المثال شرحوں ) کتاب النفس، كتاب العقل ، كتاب الحيوان ، کتاب الاخلاق ) کے لکھنے کی وجہ سے چار چاند لگے۔ارسطو کو معلم اول اور الفارابی کو معلم ثانی کہا گیا ہے جبکہ کو شارح ارسطو (The Commentator) کے نام سے یاد کیا جاتا رہا۔دانتے (Dante) نے اس کو "Avcrrois chel gran comentofeo" کے لقب سے نوازا تھا۔کسی کتاب کی شرح لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔جارج سارٹن نے کہا ہے کہ شرح لکھنا عہد وسطی میں در اصل کسی موضوع پر اپنے خیالات کی اشاعت کرنا ہوتا تھا۔مثلاً ارسطو کی کسی کتاب پر شرح لکھنے کا مطلب اس کی تحریروں کو بنیاد بنا کر فلسفیانہ یا سائنسی انسائیکلو پیڈیا تیار کرنا ہوتا تھا۔ارسطو کی کتابوں کے ناموں کے مطابق دنیا علوم کی تقسیم کرتی چلی آرہی ہے۔نے بھی شر میں لکھتے ہوئے اس کی کتابوں کی نام تبدیل نہیں کئے۔نے فلسفہ پر 38 مایہ ناز کتابیں ( مثلا جواهر الكون ، المسائل المنطقيه، مبادى الفلسفه، مقاله في الزمان، مقاله في علم النفس، كتاب فی اتصال العقل ) قلم بند کیں۔وہ ارسطو کو غیر معمولی قابلیت کا انسان تسلیم کرتا تھا جس نے صداقت اور حقیقت کو پا لیا تھا۔اسلامی دنیا میں اس وقت ارسطو کو کوئی خاص وقعت نہیں دی جاتی تھی مگر نے ارسطو ازم کو اس تاریک دور میں زندگی بخشی۔اندلس میں اس وقت کھلے عام فلسفہ کے موضوعات پر بحث نہیں کی جاتی تھی مگر کی خوش قسمتی کہ اس وقت الموحد حکمرانوں کا دور حکومت تھا۔نیز اتنی مہارت حاصل کر چکا تھا کہ وہ فلسفے کے رموز و اسرار سے بخوبی واقف تھا۔کے فلسفے کا ماحصل یہ ہے: کائنات محض عدم سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس دخان (کیسی مادے) سے نمودار ہوئی جو قبل از آفرینش فضا میں موجود تھا ( قرآن حکیم 41:10 )۔مادہ قدیم ہے اور اس کی بدلتی ہوئی صورتیں حادث ہیں۔انسانی افعال ارادہ سے تخلیق ہوتے ہیں اور ارادہ ماحول کی تخلیق ہے۔پس انسان مجبور محض ہے اور کائنات میں سب کچھ مشیت خداوندی سے ہو رہا ہے۔افلاک ازلی ہیں ، حرکت افلاک کا خالق خدا ہے۔ارواح فانی ہیں۔اسلام کی وہی تعبیر و تشریح ٹھیک ہے جو ارسطو کے نشہ سے مطابقت رکھتی ہے۔کشف دو جدان محض خیالی چیزیں ہیں، اصل حقیقت فکر ہے جس سے حقائق کا ادراک ہوتا ہے۔انتہائی سعادت عقل کل سے اتصال ہے۔100