مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 619 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 619

سمجھ گئے ہوں گے۔اور اگر نہ سمجھے ہوں۔تو میں ایک فقرہ نہیں اپنا مطلب عرض کئے دیتا ہوں کہ نظام تو کی بنیاد سے مراد راستباز متفقی انسانوں کی ایک ایسی مقدس جماعت جن کے دلوں دماغوں جانوں اور جسموں پر مبارک شریعیت نفر آئے اسلامیہ کو کھڑا کیا جاسکے اور جسے کوئی زلہ لہ کوئی پانی کوئی جانور کوئی پوسیدگی اور کوئی حملہ دشمن کا کمزور نہ کر سکے۔یہ ہے چند مختصر الفاظ میں اس بنیاد کی حقیقت جسے قرآن مجید نے وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ (احزاب (٤٣) ترجمہ لیکن انسان نے اس کو اٹھا کیا کے دو پیارے مگر آنها، نقطوں میں بیان کر دیا ہے۔جس کی تعریف كَانَّهُمْ بُنْيَانَ مَرْصُوص (الصف (٥) ترجمہ : گویا وہ ایک دیوار ہیں جس کی مضبوطی کے لئے اس پر سیسہ پگھلنا کہ ڈالا گیا ہوں۔کے الفاظ خداوندی میں کی گئی ہے۔اور جیسے معرفاً ہم بھی ہمیشہ حاملان شرع متیں ، کی اصطلاح سے اپنی تحریر اور تقریر میں بولتے اور لکھتے رہتے ہیں۔پس معلوم ہوا کہ نظام کو کی بنیاد جماعت احمدیہ اور صرف جماعت احمدیہ ہے اور کچھ نہیں۔اور بغیر اس جماعت کی موجودگی کے نظام تو اور کسی بنیاد پر رکھا نہیں جاسکتا اور نہ اس کا کوئی اور قائمقام یہ کام دے سکتا ہے۔بنیاد کی تعمیر کے لئے تین ضروری چیزیں لیکن نظام کو جو دنیا کو مصائب و آلام سے نجات دلانے والا ہو۔وہ چونکہ تمام جہان کے لئے ہے۔اس سے اس کی بنیاد بھی اس کے مطابق وسیع اور عظیم الشان ہونی چاہیئے۔نیز اگر کسی بنیاد میں سجائے پختہ عمدہ کنکریٹ کے کچی پکی اینٹیں بھر دی جائیں