مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 618
416 تو ہے لیکن افسوس ہمارے پاس اس کی بنیاد موجود نہیں۔جس پر وہ کھڑا کیا جا سکے ہیں اس بنیاد کا تیار کرتا ہی ایسا کام ہے جس کی وجہ سے ہم اسے ایک نظام نو کہ سکتے ہیں۔پرانی بنیاد پھٹ گئی۔خراب ہوگئی، نم ہوگئی ضائع ہوگئی۔اب اوپر کا محل اور قصر گیا ہوا اوندھا اور بے کار پڑا ہے۔جب تک اسے نئے سرے سے ایک نئی اور مضبوط بنیاد پر نہ رکھا جائے۔اس کی کوئی حیثیت اور کوئی اہمیت نہیں۔وہ قابل درآمد نہیں۔اور اس سے کوئی بھی قائدہ اٹھا یا نہیں جا سکتا۔پس یہ وہ بنیاد ہے۔یہ وہ پرانے نظام کے لئے نئی بنیا د یا لفظ دیگر نظام نو کی نیاد ہے جس کی تعمیر کی فکر میں جماعت احمدیہ لگی ہوئی ہے اور جن کے درست ہوتے ہی پھر وہی اگلا نظام ایک نئی شان اور ایک نئی شرکت کے ساتھ ظاہر ہوگا۔اور پھر جب تک وہ بنیاد قائم رہے گی۔تب تک وہ بھی اپنا کمال اور رونق دکھاتا رہے گا۔پہلی دفعہ جب یہ نظام قائم ہوا تو ایک مدت چل کہ پھر اس کی بنیادوں میں پانی بھرنا شروع ہو گیا۔چوہوں اور نیونوں نے بل بنا کہ اسے کھو کھلا کر دیا۔اور یہ بنیاد اسی طرح شن اور خراب ہوتی چلی گئی۔یہاں تک کہ و قصر رہیں متزلزل ہو کہ جھک گیا۔لیٹ گیا۔نکا ہو گیا۔اور قوموں کی جائے پناہ اور آرامگاہ نہ رہ سکا۔اب جو نئی بنیادین رہی ہے۔اس میں یہ خیال بھی رکھا جائے گا کہ پھر ویسی باتیں اور وہ نقائص پیدا نہ ہونے پائیں۔اور انشاء اللہ اب ایسا ہی ہو گا۔منظم نو کی بنیاد اس مضمون کا ہیٹنگ نظام نو کی بنیاد ہے جو اب خراب ہو چکی تھی۔اور اب پھر اس کی تعمیر حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو نے شروع کی۔اور ان کی خلافت اور جماعت اس کی تکمیل میں مصروف ہے۔آپ اس وقت ہمہ تن یہ معلوم کرنے کے مشتاق ہوں لگے کہ وہ بنیاد کیا ہے۔اور اس سے کیا مراد ہے۔اول تو آپ مضمون کی رفتار سے خود ہی