مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 293 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 293

۲۹۲ اس زمانہ میں بکثرت لوگوں کی اخلاقی حالت گری ہوئی ہے یہ ضروری ہے کہ کوئی نہ کوئی مرد اپنا محرم ان کے ہمراہ ہو اور سوائے مجبوری کے تنہا نہ نکلیں یا فوری تغیر خطرناک ہے مین علاقوں میں رواجی پر دہ سخت قسم کا ہے وہاں یکدم عورتوں کو گھر سے نکال کے اور ایک چادر پہنا کہ باہر لئے پھرتا اور ایک قوری تغیر سارے کنیہ میں پیدا کر دیتا اور انگشت نما ہونا خطرناک ہے۔ہر چیز جو شرعا فرض نہ ہوا سے بتدریج چھوڑنا چاہیے۔شرع نے پردہ کی مد مقرر کر دی ہے مگر یہ نہیں کہا کہ جو اس سے زیادہ پر وہ کرے اُسے پکڑ کر باہر نکالو۔اگر اس معاملہ کو بتدریج درست نہ کیا جائے گا بلکہ فوری تغیر پیدا کیا جائے گا۔تو بعض اخلاقی نقصانات پہنچنے کا احتمال ہے۔پیس ایسے علاقوں میں عورتوں اور اپنے دیگر رشتہ داروں کو شرعی پردہ کی حقیقت سے آگاہ کرو۔پھر رواج کی سختیاں ان کو سمجھاؤ پھر یہ بتاؤ کہ اس زمانہ میں رواجی حصہ کی وجہ سے بعض نقصانات عورتوں کی صحت اور تعلیم کو پہنچ رہے ہیں۔اور ان کا نتیجہ خراب ہے پھر آہستہ آہستہ ملی تغیر پیدا کرو ہماری جماعت کے لئے تو جو اُسوہ حضرت مسیح موعودا آپ پر سلامتی ہوا نے خود قائم کر دیا ہے۔وہ کافی ہے۔غرض خلاصہ شرعی پردہ کا یہ ہے۔(1) باہر نکلنے کا پر وہ : یہ سب کے لئے ایک ہی طرح کا ہے۔(ب) گھروں کے اندر کا پر وہ یہ یہ دو قسم کا ہے اور صرف نامحرموں سے ہے۔را، امہات المومنین کا مخصوص حکم (احزاب) (۲) دوسری مسلمان عورتوں کا حکم (نور) (ج) خلوت کے اوقات کا پر وہ دور یہ اپنے بچوں اور گھر کے خادموں تک سے ہے اور صرف مخصوص اوقات میں ہے۔اس کے بعد آئندہ مضمون میں انشاء اللہ اس امر کو واضح کردیں