مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 292
۲۹۱ میر کرانا۔باہرے جانا۔پیدل پھر انا اور جنگل میں دوڑنا بھاگنا منع نہیں ہے بلکہ ضروری ہے۔اور شارع عام سے ہٹ کر اپنے باغات یا ایسی جگہوں میں جہاں غیر لوگ بے تکلف نہ آ سکتے ہوں۔برقعہ یا جلباب اُتار ڈالنے کا کوئی حرج نہیں۔وہاں صرف وہی پردہ ہو گا جو گھروں کے اندر کا پردہ ہے۔یعنی خمر والا پر دہ۔اور اگر سب محرم ہی ساتھ ہوں اور مشکی باغ یا پارک میں غیر آدمی کا آنا منع ہو تو پھر بے تکلف ہو کر اوڑھنیاں بھی اتار دیں یا زیور بھی چھنکاتی پھریں یا اپنی زینت بھی ظاہر کریں تو کوئی مضائقہ کی بات نہیں۔رواج کی سختی توڑ دو اس زمانہ میں جبکہ خالص غذائیں ملنی مشکل ہو گئی ہیں اور لوگوں پر غربت بہت طاری ہے گھی دودھ آنا وغیرہ سب اشیا و ناقص ملتی ہیں تعلیم کا بوجھ دماغ پر زیادہ پڑنے لگا ہے اور وق سیل وغیرہ امراض بکثرت مخلوقات کو خصوصاً عورتوں کو ہلاک کئے جاتے ہیں تو صحت کے لئے زیادہ تگ ودو کرنی چاہیے اور عورتوں اور لڑکیوں کو تازہ ہوا زیادہ بہم پہنچائی چاہیئے۔چلنا پھرنا، ورزش بھاگ دوڑ ، سورج کی روشنی ،جنگل کا سبزہ۔کھیتوں کی ہوا روزانہ یا جہاں تک توفیق ہو۔ان نعمائے الہی سے عورتوں کو فائدہ اٹھانے دو۔اور رواجی پردہ کے اس حصہ کو توڑ دو جس کی وجہ سے عورتیں گھروں سے با هر سیر یا ورزش کے لئے یا مدرسہ جانے کے لئے نہیں نکل سکتیں۔یا سفر نہیں کر سکتیں یا زنانہ انجنوں اور مفید کمیٹیوں میں شامل نہیں ہو سکتیں یا نمائش سینما اور سرکس نہیں دیکھ سکتیں اتھیٹر جو ہو گا اس ملک میں ہوتے ہیں وہ عورتوں کے دیکھنے کے ناقابل ہیں بلکہ ایک حصہ سینا کا بھی) جب یہ فع یا جلباب موجود ہے تو ٹانگہ یا موٹر پر چادریں کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔نہ دو دو قدم پر جانے کے لئے ڈولی کی۔غیر مردوں سے ضرورت کے وقت عورتیں بات چیت کر سکتی ہیں۔قابل اطمینان اور معزز دوکانوں سے سودا خرید سکتی ہیں۔(مگر جیسی