مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 283 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 283

۲۸۲ الفاظ کے معانی ملک اور زمانہ رواج کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔اس لئے ان حالاتت کے مطابق شرعی پردہ میں بھی تغیر ہوتا رہتا ہے۔اور اگر چہ مغز پر وہ کا وہی رہے گا مگر اس کے کرنے کے طریق اور زینت کے طریقوں کے تغیر کے ساتھ اس کا بھی بدلتے رہنا اور سوسائٹی کے حالات کے مطابق مختلف مدارج کی عورتوں کا مختلف قسم کا پردہ کرنا یہ ایسی باتیں ہیں کہ عملاً ہمیشہ ایک سی نہیں رہتیں۔موجوده معجون مرکب پرده جو ہندوستان میں رائج ہے اسے بھی دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ ملک کے ہر حصہ میں اس کی بابت اختلاف ہے حتی کہ مختلف خاندانوں کے پردہ میں فرق ہے۔لڑکیوں جوان عورتوں اور بوڑھی عورتوں کے پردہ میں فرق ہے۔امیروں اور غریبوں کے پردہ میں فرق ہے۔تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ عورتوں کے پردہ میں فرق ہے۔اس لئے پردہ کی حقیقت اور اسلامی پردہ کی حدود اور بعض رواجی باتوں کے فوائد اور نقصانات سمجھنے کے لئے مفصل باتیں لکھنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ لوگ اصلیت کو سمجھ کر پھر حالات کے ماتحت اس پر جو مناسب ہو کمی بیشی کر لیں۔ہندوانہ پردہ ایک پردہ ہندوانہ ہے۔وہ یہ کہ عورتیں اپنے میکے کے سر آدمی سے خواہ وہ بدمعاش ہو مجرم ہو۔کسی قوم کا ہو۔کوئی ہو پر وہ بالکل نہیں کرتیں اور اپنے سسرال میں اپنے خاوند اور شہر جو دونوں محرم ہیں اُن سے ساری عمر گھونگھٹ مارتی ہیں۔اور خاوند کے چھوٹے بھائی سے خواہ وہ عورت کا ہم عمر اور جوان ہو نہ صرف پردہ نہیں کرتیں۔بلکہ نہایت بے تکلفی سے ہنسی مذاق کرتی رہتی ہیں جو اکثر یہ شرافت سے گر کر مکروہ حد تک پہنچ جاتا ہے۔