مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 282
۲۸۱ ضروری نوٹ ر ان سب حوالوں میں حوالہ نمبر (۱) کی آیت ب کا نام " آیت حجاب" ہے اور یہ آیت صرف اُمہات المومنین کے لئے ہے۔پردہ کا مطلب جو فطری حجاب عورت کو مرد سے ہوتا ہے اس کے بقا کے لئے شریعت نے پوہ قائم کیا ہے تا کہ فتنوں کا سد باب ہو اور سوسائٹی میں امن قائم ہو۔عام طور پر پردہ کے دو چھتے ہیں۔ایک شرعی ، دوسرا رواجی۔شرعی اور رواجی پر دہ شرعی پردہ وہ ہے جسے قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے اور اس کی ایک حدبندی کر دی ہے کہ اس سے کم نہ ہو۔لیکن ملکی یا زمانہ کے حالات کی وجہ سے اس میں رواج کا بھی دخل ہو گیا ہے۔یہ رواج حالات کے ماتحت بدلتا رہتا ہے۔اور سب جھگڑا زیادہ تر اس رواجی حصہ پر ہی ہوتا ہے۔اگرچہ یورپ کی تقلید اب شرعی پردہ سے بھی اُلجھنے لگی ہے مگر بہت سے مسلمانوں پر تعجب ہے کہ وہ رواجی پردہ کو ہی دین کا پردہ سمجھتے ہیں۔حالانکہ مروجہ پر وہ خالص اسلامی پر دہ نہیں ہے۔علاوہ رواج کے تشدد کے جو شرعی پردہ پر اضافہ کے طور پر ہے۔شرعی پردہ میں بھی رواج کو دخل ہے ایک قسم کا رواج وہ بھی ہے جس کی مداخلت کو شرع نے تسلیم کیا ہے۔چنانچہ آگے چل کر معلوم ہوگا کہ شرعی پردہ میں جلباب اور زینت اور الاما ظهر منها