مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 266
۲۶۵ مقصد کا ایک ذریعہ سمجھو۔تب تو فائدہ ہوگا ورنہ نہیں اور اعراض حسب ذیل ہیں۔نماز نماز اس لئے پڑھی جاتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ا ہم گناہوں سے پاک ہو جائیں۔اقمِ الصَّلوةَ طَرَفَى النَّهَارِدَ زُلَفًا مِنَ اليْلِ إِنَّ الْحَسَنتِ يُذْهِبْنَ السَّيَاتِ (هود : ۱۵) یعنی نماز کی وجہ سے انسان کی اخلاقی بدیاں دور ہو جاتی ہیں اور اسے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے یا یوں کہو کہ نماز تزکیہ نفس کا ذریعہ ہے۔-۲- اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكرى (طا (۱۵) یعنی نماز سے وہی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔جو ذکر الہی سے ہوتے ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی محبت قبولیت دعا بخشیت الہی وغیرہ۔پس یہ اصل مقصود ہیں۔اور نماز ان کے حصول کا ذریعہ ہے۔اگر یہ چیزیں نماز کے نتیجہ میں حاصل ہو رہی ہیں تو نماز ٹھیک ہے۔ورنہ اس میں نقص ہے۔إِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا (نساء:۱۰۴) یعنی نماز کی وجہ سے انسان کی زندگی باقاعدہ ہو جاتی ہے اور وہ بھی نماز کے ذریعہ سے عبد اللہ ہو جاتا ہے۔-٢ إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالمُنكَر ( مكبوت ۴۷۰) نماز روکتی ہے بے حیائیوں اور نا معقول باتوں ہے۔پس نمازی دیکھ لے کہ نماز کو تو اللہ تعالیٰ نے میرے نفس کے لئے فحشا و منکر سے بچنے کا ایک ذریعہ بنا یا ہے۔اگر نفس ان باتوں سے وقتی پہنے لگا ہے تو نمازہ ٹھیک ہے ورنہ اصلاح کی محتاج ہے۔الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمُ خَشِعُونَ (المومنون :۳) نماز سے خشوع قلب اور رقت دل کا حاصل کرنا مقصود ہے۔