مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 265 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 265

الْعالَمينَ ) عنکبوت (6) جو شخص بھی کوشش کرتا ہے وہ اپنے نفس کے لئے کرتا ہے۔خدا تعالی تو تمام جہانوں سے منی اور بے پروا ہے۔ومن ينكر فإنَّمَا يَتْ كُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حميد (لقمان: ۱۳) جو میرا شکر کہتا ہے وہ اپنے نفس کو ہی فائدہ پہنچانے کے لئے کرتا ہے اور جو میرا کفر کرتا ہے۔تو میں ان سے بے پروا اور ستائش کے قابل ہوں۔اس مضمون کی ایک نہیں بلکہ بہت سی آیات قرآن مجید میں موجود ہیں اور سب کا مطلب یہی ہے کہ حملہ عبادات اور ساری نیکیاں اور تمام کوششیں بندہ کے اپنے فائدہ کے لئے ہی ہیں۔خدا کا قطعاً کوئی فائدہ ان میں نہیں ہے۔اور اس کے بر خلاف عقیدہ رکھنا ایک بڑا دھوکا ہے جو عام لوگوں کو لگا ہوا ہے۔دوسرا دھوکا یہ ہے کہ لوگ ان اعمال کو ہی اصل چیز سمجھ بیٹھے ہیں۔اور جن باتوں کے حصول کے لئے یہ اعمال بطور ذرائع کے تھے۔ان کا خیال بھی نہیں کرتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریح اعمال ضائع ہوگئی اور صرف چھلکا ہی اصل چیز سمجھ لیا گیا۔اس لئے میں مختصر یہاں بیان کرتا ہوں کہ نماز کس چیز کے حاصل ہونے کا ذریعہ ہے اور راندہ کسی چیز کے حاصل کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے اور حج ادا کر نا کس مطلب کے لئے ہے اور زکوۃ دینے سے ہم کو کس نفع کی امید رکھنی چاہیے۔اگر ان اعمال سے دو چیزیں اور وہ فائدے ہم کو حاصل ہو رہے ہوں۔تب تو ہمارے ذرائع سمیع ہیں۔ورنہ ان میں غلطی ہے۔اور اس غلطی کی اصلاح کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہیے۔اور جب تک وہ اصل مقصد حاصل نہ ہو۔ان اعمال کو ناقص اور یکتا سمجھتے رہنا چاہیئے۔مثلاً اگر ہم میں فٹ اونچے کوٹھے پر چڑھنا چاہتے ہوں۔اور 10 فٹ لمبی سیڑھی لگا کہ اس پر چڑھنے لگیں تو کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔اصل مقصد ہمارا کوٹھے پر چڑھنا ہے نہ کہ صرف ایک سیڑھی دیوار سے لگا دیا۔پس اصل مقصودان عبادات کا جو کلام الہی نے بیان فرمایا ہے۔اسے ہمیشہ ذہن میں مستحضر رکھیں اور ان اعمال کو اصل