مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 267 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 267

444۔4۔٢ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَوَةِ وَإِنَّهَا تَكَبَيْرَةُ إِلَّا عَلَى الخَشِعِينَ (بقرہ : ۴۶) ترجمہ: اور صبر اور دعا کے ذریعہ سے (اللہ سے مدد مانگو اور بیشک فروشنی اختیار کرنے والوں کے سوار دوسروں کے لئے ) یہ رام مشکل ہے۔یعنی نماز قبولیت دعا کا ذریعہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی عبادتوں کے بارہ میں افلاا کون عبدا شکورا (الحدیث) کہہ کہ بتا دیا کہ نماز ذریعہ ہے اللہ تعالی کے شکر کے اظہار کا۔مختصراً یہ وہ باتیں ہیں۔جن کے لئے نماز پر مداومت اختیار کی جاتی ہے اور نماز ان کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔اگر یہ باتیں حاصل ہو رہی ہیں۔تو نماز بھی ٹھیک ہے۔ورنہ قابل توجه و اصلاح۔یاد رہے کہ دنیا ہیں یہ سب اعمال یعنی روزه ، نماز ، حج ، زکواۃ وغیرہ موت تک جاری رہتے ہیں۔مگر جنت میں نہ روزہ رہے گا۔نہ حج نہ زکواۃ۔مگہ نماز کا عمل وہاں بھی رہے گا۔کیونکہ نماز تور اصل ایک کا ہے۔اور دعا اس وقت تک جب تک بندہ بندہ ہے۔اور خدا اس کا رب ہے۔ہمیشہ قائم رہے گی۔کیونکہ دعا نہ ہو تو بندہ اور خدا کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔اس لئے یہ عمل ایدی ہے۔باقی سب اعمال صرف موت تک ہیں۔روزه -1 روزہ ذریعہ ہے۔تقویٰ کا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ من قبلكم لعلكم تمونَ (بقره : ۱۸۴) ترجمہ : تم پر (بھی) دونوں کا رکھنا (اسی طرح) قرض کیا گیا ہے جس طرح اُن لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم (روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔