مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 229 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 229

۲۲۸ خوشی اور طرب کاسماں ساتھ ہی یہ سبب یومِ مغفرت ہونے کے ایک خوشی اور طرب کا سماں اس نظارہ پر چھایا ہوا تھا۔ہر گنہگار کے چہرہ پر اس اور امید کا تیسم موجود تھا۔لوگوں کے اعمال نکل رہے تھے ، اور ان کی کمی اور خامیاں فضل اور مغفرت کے انعامات سے پوری ہو رہی تھیں ، کیونکہ آج صفت عفود مغفرت کے مظاہرہ کا دن تھا اور حساب کتاب میں مجید نرمی تھی ، گو دوسری طرف کراماً کاتبین بھی اپنا کام کئے جاتے تھے۔مالک و رضوان بھی گاہے گاہے آپس میں جھگڑ لیتے تھے، اور سائقین و شہدا کی کشمکش بھی جاری تھی ، مگر آخری فیصلہ ان تمام جھگڑوں کا بارگاہ حضرت غفور و رحیم سے ہی صادر ہونا تھا۔میں اسی سیر میں مشغول تھا کہ غفران نے مجھے کہا چل تجھے بعض لوگ دکھلاؤں جنہیں تو جانتا ہے اور ساتھ ہی بعض دلچسپ حالات مغفرت الہی کے بھی ملاحظہ کراؤں جن سے عام لوگ ناواقف ہیں۔باقی یہ حشر اور حساب کتاب تو اسی طرح ہوتا رہے گا۔اور جس طرح آج موجب كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن : ٣٠) ترجمه در ده هر وقت ایک نئی حالت میں ہوتا ہے۔صفت مغفرت کے تقاضا کا دن ہے ، اسی طرح کوئی دن جلال الہی اور انتقام کا آجاتا ہے تو کوئی عدل وانصاف اور قسط کے اظہار کا کسی دن شفاعت کا مظاہرہ ہوتا ہے تو کسی دن قہر و جبروت کا۔مگر یہ سب ایام ان لوگوں کے اعمال اور حالات کے مطابق آتے ہیں جن کا حساب و کتاب ان اسمائے الہی کے مطابق ہونا ہوتا ہے۔اس عالم میں رحم کی تو کوئی حد نہیں ، ہاں عدل وانصاف بھی کبھی کبھی ہوتا ہے ، گر ظلم کبھی نہیں۔۔۔آرمل، تجھے بعض تفصیلی باتیں مغفرت الہلی کے متعلق دکھاؤں تاکہ تیرا ایمان اور محبت