مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 228
۲۲۷ جس پر ایک ایسا سکوت طاری ہو جاتا ، جیبا آدھی رات کے وقت قبرستانوں میں ہوا کرتا ہے۔عرش عظیم غرض ایسے نظارے دیکھتے ہوئے ہم آگے بڑھے ، اور جہاں بھی پہنچے، یہی حال دیکھا ، حتی کہ میں قریباً تھک گیا ، اتنے میں غفران نے کہا کہ وہ سامنے عرش عظیم ہے ہیں نے نظر اٹھائی تو سوائے ایک روشنی اور نور کے کچھ نظر نہ آیا۔مگر خود بخود اس قدر دشت اور رغب اس طرف نظر کر کے مجھ پرطاری ہوا کہ میری گھگھی بندھ گئی۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس لا انتہا میدان میں یہ مقام ہر جگہ سے یکساں قریب نظر آتا ہے ، اور وہاں کے احکام ہر شخص کو ایسے ہی صاف سنائی دیتے ہیں گویا وہ ہمارے سامنے اور بالکل پاس ہی ہے بے انتہا فرشتے ، اس جگہ کے گر دچکر لگا رہے تھے۔کوئی گروہ یہ کہ رہا تھا۔اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَغْفِرُكَ لِلَّذِينَ آمَنُوا اور کوئی یہ کہ رَبَّنَا اغْفِرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ اور کوئی رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ (المومنون : ۱۱۹) ترجمه راے میرے رب ! معاف کر، اور رحم کر کا ورد کر رہا تھا۔کوئی يَا عَفُورُ الرَّحِيمُ کا اور کوئی یا عَفُوٌّ يَا غَفُورُ يَا سَتَارُ يَا غَفَّارُها غرض وہ لوگ طرح طرح کے جملے پڑھنے جاتے تھے ، اور ایک طرف سے آتے اور دوسری طرف غائب ہوتے جاتے تھے۔