مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 699
۲۹۸ زیادہ پختہ عہد تھا اور اس کی آئندہ زندگی ایسی پاک ہو گئی جیسا بھٹی سے نکل کر سونا گندن ہو جاتا ہے۔چنانچہ ایسا ہوا کہ نہ صرف اس نے اس گناہ سے بلکہ ہر گناہ سے توبہ کی اور آئندہ ہمیشہ وہ لوگوں کی اصلاح میں مصروف رہا۔بیسیوں شرابیوں سے اس نے شراب چھڑائی اور سینکڑوں بد اعمال اس کی صحبت میں بیٹھ کر نیک کردار بن گئے۔گناہوں کا حقیقی علاج تو بہ ہی ہے اب اسے پادری اور مہاتہ صاحبان سچ بتائیے کہ گناہ کی سزا عبد التواب کو ملی یا ان دوسرے دونوں صاحبوں کو جن کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے پھر یہ اعتراض کہ تو یہ ایک بہانہ ہے اور بے سزا کے گناہ کا معاف ہوتا ایک بیہودگی ہے کہاں تک درست ہے ؟ بات یہ ہے کہ آپ کو خود کبھی سچی توبہ کی چاشنی نصیب نہیں ہوتی۔میرے دوستو فرق صرف یہ ہے کہ آپ کی تجویز کر وہ سزا جسمانی اور ہلکی ہے اور توبہ کی سزا روحانی اور شدید ہے آپ کی سزا کے بعد انسان پھر گناہ کرتا ہے بار بار کرتا ہے بلکہ ولیر اور ڈھیٹ ہو جاتا ہے اور سچی توبہ کی سزا بھگتنے کے بعد نہ صرف وہ خاص گناہ نہیں کرتا بلکہ دوسرے گناہوں کو بھی ترک کر دیتا ہے اور نیکی میں ترقی کرتا ہے۔خدا آپ کو بھی سچی توبہ نصیب کرے۔اف وہ ندامت یا وہ ذلت کا احساس ! وہ دل کھیل کر نکلنے والے آنسو یا دہ سوزوگداز یا وہ کلیجہ بھون کر باہر نکلنے والی افسوس کی آہیں نا اسے آریہ مت والو ! تم نے یه خوفناک سزائیں دیکھی ہی نہیں۔وہ اپنے آقا کے سامنے ہاتھ جوڑنا وہ اس کے پیروں پر یسر رکھ کر گڑ گڑا کر معافیاں مانگتا۔وہ قسمیں کھا کھا کر آئندہ اس کی نافرمانی سے بچنے کا عہد کرنا دہ ساری عمر تلافی مافات کے طور پہ نیک اعمال کرنے کی کوشش میں لگے رہنا۔اسے پادری صاحبان آپ نے ان باتوں کی چاشنی چکھی ہی نہیں ! پھر ایسی سچی توبہ کے بعد ضمیر نے سے بوجود اُتر کم اس کا ہلکا ہو جاتا اور اپنے خدا