مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 698
کروں اور اس کی جو مزا ہے اس نے مجھے محفوظ رکھے۔کیونکہ تو معاف کرنے پر بھی ویسا ہی قادر ہے۔جیسا سزا دینے پر مجھے اپنے اعمال نامے سے اس برے عمل کے دھونے کے لئے توفیق دے۔تا ہمیں اس کے مقابل پر کثرت سے نیک عمل کروں اور تیری مخلوقات کو بھی جو اسی طرح کی گندگیوں میں پڑی ہے ایسے گناہوں سے نکالوں اور ان کی زندگی کو درست بناؤں۔غرض شیخ عبد التواب کی وہ نماز تو یہ کیا تھی وہ ان تمام سزاؤں سے بہت سخت سزاستی جو کوئی گورنمنٹ یا پولیس یا برلوری یا حاکم کسی مجرم کو دے سکتے ہیں بلکہ ان سزاؤں سے تو ملزم بچنا چاہتا ہے اور اگر دی جائیں تو اس کے اندر مترا کے بعد ایک جذبہ کینہ اور غصہ کا اس کے یہ خلاف پیدا ہوتا ہے اور ہر گرنہ آئندہ کی اصلاح نہیں ہوتی۔۳۰ سال کی قید با مشقت اور ہزار بید پشت پر وہ ندامت اور دل کی نرمی پیدا نہیں کر سکتے جتنا انسان کے اپنے نفس کی سچی تو یہ۔اور تمام خلائق کی لعنت و سلامت وہ اصلاح انسان کے اندرونہ کے نہیں کر سکتی جتنا تائب ضمیر کی روحانی گذازگی۔اور ہزار آدمیوں کی ضمانتیں کسی انسان کو آئندہ کے لئے اس جرم سے نہیں روک سکتیں چنانچہ سچی توبہ کے وقت کا ولی اقرار جو وہ اپنے خدا کے آگے سر جھد کا کرہ کرتا ہے کہ اب آئندہ مجھ سے ایسا فعل سرزد نہیں ہوگا۔اور کوئی سخت سے سخت سزا کسی گنہگار انسان کو آئندہ کے لئے نیکو کار نہیں بنا سکتی مینا ایک بچے تو بہ کرنے والے کا عہد کہ میں ہمیشہ اس گناہ کی تلافی کے لئے اس کے بالمقابل کی نیکیاں نہ صرف خود کروں گا بلکہ سوسائٹی میں سے اس بدی کی جھڑا کھیر کہ نیکی کے پودوں کی نشو و نما کمروں گا۔چنانچہ عبد التواب نے ایسا ہی کیا اس کے تین دن جو تو یہ استغفار میں گزرے وہ ایک جہنم کی سزا کے دن تھے ضمیر اس کو سیٹ کار رہا تھا اس کی عقل اس کو شرمندہ کر رہی تھی اس کا دین اس کو علامت کہ رہا تھا حتی کہ آخر اس نے سچی توبہ کا فیصلہ کر لیا وہ اس سے زیادہ رویا جتنا کسی عدالت سے سزا پانے پہ روتا ہے۔اس کا عہد ہزار رجسٹریوں سے