مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 606
۶۰۵ میں ٹماٹر نایاب ہوں۔ان دنوں چار آنہ یا آٹھ آنہ سیر والے ٹماٹروں کو خرید تا اسراف نہیں ہے تو اور کیا ہے۔میں نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ تمام گرمی اور برسات مبھیر تو کریلے کھاتے نہیں جب کریلے دو پیسے سیر ہوتے ہیں لیکن جاڑے میں جب آٹھ آنے سیر ہو جاتے ہیں تو دوسری جگہ سے کربلے منگواتے ہیں۔اسی طرح بلا خاص موسم اور ضرورت کے عمو گا مچھلی اور مرغی پکواتے رہنا کس قدر صحت اور سادگی کے اصول کے برخلاف ہے۔نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر تم کاری موسم کے شروع میں بہت گراں ہوتی ہے۔حتی کہ آٹھ آنہ یا دو پہ سینک بک جاتی ہے۔ان چند مہنگے دنوں میں گراں قدر ترکاریوں کا خریدنا اوسط درجہ کے آدمیوں کے لئے مناسب نہیں معلوم ہوتا۔- بعض کھانے کی اشیاء اکٹھی اور یہ وقت خرید نا مہ اس میں بھی کافی بچت ہو جاتی ہے۔مثلا غلہ ، دالیں۔پیاز وغیرہ ولایتی گھی کا مناسب استعمال پر اس میں کچھ شک نہیں کہ خالص گھی بہت مفید صحت چیز ہے اور ولایتی گھی محض تیل ہے اور کچھ نہیں مگر تاریخ میں نصفا نصف کا فرق ہے۔گھی ایک روپیہ سیر آتا ہے اور ولایتی گئی قریب اللہ آنہ سیر اور مزے میں فرق کرنا بہت مشکل ہے۔لیکن خشک اشیاء مثلا قیمہ، کباب وغیرہ میں تو ولایتی گھی کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ہاں شور ہے اور سائن ہو تو اس میں ولایتی گھی کا پتہ لگ جاتا ہے۔پس بعض اوسط حال کے آدمیوں کے لئے یہ مناسب ہوگا۔کہ وہ اصلی کبھی اپنے لئے استعمال کیا کریں اور ولایتی گھی ملازمین وغیرہ کی ہانڈی میں ڈلوایا کریں۔اور خود بھی جب قیمیہ یا کباب یا خشک بھنی ہوئی اشیاء پکوائیں تو اس میں ولایتی گھی ڈلوا لیا کریں۔اس طرح اُن کے پیٹ میں اصلی گھی بھی جاتا رہے گا اور باورچی خانہ کا خروج بھی ہلکا ہو جائے گا اور کھانا بھی بدمزہ یا بو دارہ نہ ہو گا۔