مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 605 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 605

Y۔N یا دہی استعمال کر سکتے ہیں۔تازہ یا باسی روٹی ایک تلے ہوئے انڈے کے ساتھ (جو گھر کی مرغی کا ہو کیونکہ دوست پڑتا ہے) بھی موزوں ہے۔فریاد تو باسی روٹی کے ساتھ ستی یا باسی دال سالن کھا لیتے ہیں۔اسی طرح مجھنے ہوئے چنے کشمش ملا کہ۔ابلے ہوئے لیکن چنے۔ابلے ہوئے آلو۔یا دودھ سویاں عمدہ ناشتہ کا کام دیتے ہیں۔یہ توضیع کے ناشتوں کا حال ہے۔جو لوگ تیسرے پہر ناشتہ کرتے ہیں۔ان کے لئے موسمی پھل یا ترکاری مثلاً آم - خربوزہ۔پھوٹ۔امرود - تربوز - کڑی تھے۔یعنی وہ پھل جو موسمی ہونے کی وجہ سے سہتے مل جاتے ہیں۔استعمال ہو سکتے ہیں۔ورنہ سادہ دودھ ہی سہی رضا میں یہ بھی بیان کر دیتا ہوں کہ جن لوگوں کو ضعف دماغ کی شکایت رہتی ہے ان کے لئے بہترین ناشتہ بادام کا شیرہ اور نیم برشت انڈے کی زردی ہے) نفر با د تیسرے پہر اگر بھوک لگے تو مجھنے ہوئے دانے کئی یا باجرہ یا چنے یا جوار کے کھایا کرتے ہیں اور خدا اعتدال کے اندر رہ کر بھی مفید ہیں۔بہت چھوٹے بچے ہو ہر وقت کھانے کی گردان کرتے رہتے ہیں۔اگر ان کو ثقیل اشیاء ہر وقت دی جایا کریں توان کے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں۔اس لئے ان کے لئے پھیکے یا نمکین مرمرے (یعنی چاول سمجھنے ہوئے) بہت ہلکے اور زود معلم مہیا رکھتے چاہیئے۔اور بجائے اس کے کہ دن بھر وہ لڈو یا پیڑے کھاتے رہیں۔اور دن رات اسہال میں مبتلا رہیں۔یہ بہتر ہوگا کہ علاوہ کھانے اور دودھ کے جب وہ ضد کریں تو ایک مٹھی مرمرے دے کر ان کو بہلا دیا جائے۔-۵ سالن میں اسراف :- نہ صرف یہ مناسب ہے کہ ایک سالن پکا کر پھر سیخوں کے کباب، دہی بھلتے کباب - یوندی - پکوڑی وغیرہ اشیاء دستر خوان پر بلاوجہ زائد کی جائیں بلکہ اکٹر ڈھونڈ ڈھونڈ کر قیمتی اور نایاب ترکاریاں اور سبزیاں منگوانا بھی باکفایت اور سادہ زندگی کے اصول کے خلاف ہے۔مثلا با وجود اس کے کہ بازار میں کرد، آلو - اردی کور یلئے بینگن ، ساگ بھنڈیاں توریاں وغیر ہستی اور طرح طرح کی ترکاریاں موجود ہیں۔پھر بھی ان کو چھوڑ کر یہ کوشش کر نا کہ لوہے کی پھلیاں اور بے موسم مرحو آج کل گراں ہیں وہ حاصل کئے جائیں یا جس موسم