مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 550
۵۲۹ کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے۔اس وقت میں نے گھر میں مخاطب ہو کر کہا۔کہ یہ میرا بیٹا ہے۔تب دو فرشتے اور ظاہر ہو گئے اور تین کرسیاں معلوم ہوئیں۔اور تینوں پر وہ تین فرشتے بیٹھ گئے۔اور بہت تیز قلم سے کچھ لکھنا شروع کیا۔میں کی تیز آواز سنائی دیتی تھی۔اُن کے اس طرز کے لکھنے میں ایک رکاب تھا۔میں پاس کھڑا ہوں کہ بیداری ہوگئی۔(تذکرہ (۴۸۸) حضور نے اس خواب کی ایک تعبیر قبل از وقت بھی کی تھی۔مگر یہ پیشگوئی عجیب واقعات اور غیب اپنے اندر رکھتی ہے جس کا اس وقت شاہ میں کسی کو بھی علم نہ تھا۔اس رویا میں در حقیقت مرزا سلطان احمد صاحب ہی کا ذکر خیر اور ان کی بابت ہی پیش گوئی تھی یعنی گو مخالفت اور دیگر وجوہ سے وہ سر تا پاسیاہ حالت میں ہیں۔لیکن نظام سلسلہ یعنی اس خلیفہ کی بیعت میں داخل ہو کہ جو اس سلسلہ کے نظام کا پانی ہوگا۔وہ فرشتہ بن جائیں گے۔اور خدا کے نزدیک کرسی نشین اور معزز ہو جائیں گے اس وقت میری روح بھی بول اُٹھے گی۔کہ یہ میرا بیٹا ہے۔نیز اس رویا میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مرزا سلطان مجعد صاحب مرحوم سمیت حضور کے تین بیٹے اہل قلم ہوں گے۔اور ان کی قلموں کی آواز میں تحریریں کا شہرہ دنیا نبی سُن لے گی۔سو حضرت خلیفہ البیع الثانی اور مرزا بشیر احمد اور مرزا سلطان احمد صاحب واقعی ایسے ہی مشہور اہل قلم ہیں۔میں اس دیار کا ہر حصہ ہم نے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ لیا۔فالحمد الله (4) "جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا۔اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور نہی ہے ، ( تذکرہ ۳۲۷) یہ الہام نہایت واضح طور پر مسئلہ جنازہ کو صاف کر دیتا ہے۔یعنی جو بھی تیری محبت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا۔۔۔۔۔۔۔وہ جہنمی ہے اور جب جہنمی ثابت ہو گیا ہوگا