مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 534
۵۳۳ آپ کو دیکھ کہ کوئی شخص ایک لمحہ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس شخص کی زندگی میں یا لباس میں کسی قسم کا بھی تصنع ہے یا یہ زیب و زینت دنیوی کا دلدادہ ہے۔ہاں البته والرجز فاهجو کے تحت آپ صاف اور ستھری چیز ہمیشہ پسند فرماتے اور گندی اور میلی چیز سے سخت نفرت رکھتے۔صفائی کا اس قدر اہتمام تھا کہ بعض اوقات آدمی موجود نہ ہو تو بیت الخلاء میں خود فینائل ڈالتے تھے۔عمامہ شریف آپ معمل کا باندھا کرتے تھے۔اور اکثر وس گنز یا کچھ او پہ لیا ہوتا تھا۔شملہ آپ لیا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے۔اور کبھی اس کا پگر دین مبارک پر بھی رکھ لیتے۔جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔نوک تو ضرور سامنے ہوتی مگر سر پر ڈھیلا ڈھالا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے اور گھر میں عمامہ اُتار کر صرف یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے۔مگر نرم قسم کی دوسری جو سخت قسم کی نہ ہوتی۔جما ہیں آپ سردیوں میں استعمال فرماتے اور ان پر مسح فرماتے۔بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرا ہیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔مگر بارہا جوراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔کبھی تو سر آگے ٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آ جاتی کبھی ایک جراب سیدھی دوسری اُلٹی۔اگر جراب کہیں سے کچھ پھٹ جاتی تو بھی مسح جائزہ رکھتے بلکہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایسے موزوں پر بھی مسح کر لیا کرتے تھے جس میں سے ان کی انگلیوں کے پوٹے باہر نکلے رہا کرتے۔جوتی آپ کی دیسی ہوتی۔خواہ کسی وضع کی ہو۔پچھواری ، لاہوری لدھیانوی سلیم شاہی ہر وضع کی بہن لیتے مگر ایسی جو کھلی کھلی ہو۔انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا گر کا بی حضرت صاحب کو پہنے میں نے نہیں دیکھا۔جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڈی بٹھا لیتے۔مگر ایسی ہوتی کے ساتھ باہر تشریف