مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 535 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 535

۵۳۴ نہیں لے جاتے تھے۔لباس کے ساتھ ایک چیز کا اور بھی ذکر کر دیتا ہوں وہ یہ کہ آپ عصا ضرور رکھتے تھے۔گھر میں یا جب مسجد مبارک میں روزانہ نماز کو جانا ہوتا۔تب تو نہیں مگر مسجد اقصٰی کو جانے کے وقت یا جب باہر سیر وغیرہ کے لئے تشریف لاتے تو ضرور ہاتھ میں ہوا کرتا تھا اور موٹی اور مضبوط لکڑی کو پسند فرماتے مگر کبھی اس پر سہارا یا ہو مجھ دے کہ نہ چلتے تھے جیسے اکثر ضعیف العمر آدمیوں کی عادت ہوتی ہے۔موسم سرما میں ایک دہشتہ لے کہ آپ مسجد میں نماز کے لئے تشریف لایا کرتے تھے جو اکثر آپ کے کندھے پر پڑا ہوا ہوتا تھا۔اور اسے اپنے آگے ڈال لیا کہ تے تھے۔جب تشریف رکھتے تو پھر پیروں پر ڈال لیتے۔کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی۔علامہ رات کو اتار کر نیکہ کے نیچے ہی رکھ لیتے۔اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر سر اور جسم کے نیچے کئے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر سیٹ ہے۔موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اتار دیتے اور صرف چادر یانگی باندھ لیتے گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے تو اس کی خاطر بھی کرتہ اُتار دیا کرتے۔تہ بند اثر نصف ساق تک ہوتا تھا۔اور گھٹنوں سے اوپر ایسی حالتوں میں مجھے یاد نہیں کہ آپ پر بستہ ہوئے ہوں۔آپ کے پاس کچھ کنجیاں بھی رہتی تھیں۔یہ یا تو رو مال میں یا اکثر آزار بند میں باندھ کر رکھتے۔روئی دار کوٹ پہننا آپ کی عادت میں داخل نہ تھا۔نہ ایسی رضائی اوڑھ کر باہر تشریف لاتے بلکہ چادر پشمینہ کی یا دھہ رکھا کرتے تھے اور وہ بھی سر پر کبھی نہیں اور ھتے تھے بلکہ کندھوں اور گردن تک رہتی تھی۔گلوبند اور دستانوں کی آپ کو عادت نہ تھی بیستر آپ کا ایسا ہوتا تھا کہ ایک لحاظ میں میں ۵ - ۶ سیر روٹی کم از کم ہوتی تھی۔اور اچھا لمبیا