مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 533
۵۳۲ درست لگے ہوئے ہیں یا نہیں صرف لباس کی اصلی غرض مطلوب تھی۔بارہا دیکھا گیا کہ بین اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں گئے ہوئے ہوتے تھے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاموں میں لگائے۔ہوئے دیکھے گئے۔آپ کی توجہ ہمہ تن اپنے مشن کی طرف تھی اور اصلاح امت میں اتنے محمو تھے کہ اصلاح پاس کی طرف توجہ نہ تھی۔آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گریم وضع کا ہی رہتا تھا۔یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے۔اور به علالت طبع کے باعث تھا سردی آپ کو موافق نہ تھی اس لئے اکثر گرم کپڑے لکھا کر تے تھے البتہ گرمیوں میں نیچے کو تہ عمل کا رہتا تھا بجائے گرم کرنے کے پاجامہ آپ کا معروف شرعی وضع کا ہوتا تھا پہلے فرامیہ یعنی ڈھیلا مردانہ پاجامہ بھی پہنا کرتے تھے مگر آخر عمر میں ترک کر دیا تھا) مگر گھر میں گرمیوں میں کبھی کبھی دن کو اور مادہ تا رات کے وقت تہ بند باندھ کر خواب فرمایا کرتے تھے۔صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے گھر کوٹ موما باہر جاتے وقت ہی پہنتے۔اور سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے۔بلکہ بعض اوقات پوستین بھی۔صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کونٹ کی جیب میں آپ کا رومال ہوتا تھا۔آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے۔نہ کہ چھوٹا جنٹلمینی رومال جو آج کل کا بہت مروج ہے اس کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے۔اور اسی اعمال میں نقد وغیرہ جو نذر لوگ مسجد میں پیش کرتے تھے باندھ لیا کرتے۔گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کر تے تھے مگر اس کی گنجی دینے میں اکثر ناغہ ہو جاتا تھا۔اس لئے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا۔اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اس لئے آپ اُسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے۔گھڑی کو ضرورت کے لئے رکھتے نہ زیبائش کے لئے۔