مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 497
۴۹۶ سرہانے ایک عورت بیٹی آہ و زاری اور بین کر رہی ہے۔آپ نے فرمایا۔کہ اسے عورت اللہ سے ڈر اور صبر کر۔اس عورت نے کہا کہ اے شخص تو اپنی راہ لگ تجھ پر میرے جیسی مصیبت پڑتی تو پھر تجھے پتہ لگتا۔لگا ہے مجھے نصیحت کرنے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے خاموش ہو کر چلے آئے۔پیچھے لوگوں نے بتایا کہ بیوقوف یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔پریشن کہ وہ آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی۔کہ اس وقت مجھ سے غلطی ہوئی۔میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا۔اب میں صبر کرتی ہوں۔آپ نے فرمایا۔اب یہ کہنے کا کیا فائدہ۔ثواب تو اسی صبر کا ہے۔جو صدمہ کے پہلے دھکے کے وقت کیا جائے۔معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واقعہ اپنے معراج کا ذکر صحابیہ کوخودستایا۔فرمایا کہ جیب میں مکہ میں تھا۔تو ایک رات میں نے دیکھا کہ میرے گھر کی چھت پھٹ گئی۔اور جبرائیل علیہ السلام اس میں سے اُتر ہے۔پہلے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا۔اور آب زمزم سے اُسے دھو کر صاف کیا۔پھر ایک مشت سونے کا حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا لائے۔اور اسے سینہ کے اندر ڈال کر اس کو بند کر دیا۔اس کے بعد جبرائیل میرا ہاتھ پکڑ کر پہلے آسمان پر لے گئے۔اور اس آسمان کے داروغہ فرشتے سے کہا۔کہ دروازہ کھول دے۔اُس نے کہا تم کون ہو ؟ وہ ہونے میں جبرائیل ہوں پھر اس نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے ؟ جبرائیل نے کہا ہاں میرے ساتھ گھر ہیں۔پھر اس نے کہا۔کیا وہ بلائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں۔اس پر اس دارفو نے دروازہ کھول دیا اور ہم اس آسمان پر چڑھے اور وہاں ایک اور شخص کو بیٹھے دیکھا جس کے دائیں طرف بھی ایک جماعت تھی۔اور بائیں طرف بھی جب وہ شخص اپنی دائیں طرف دیکھتے تھے تو ہنس دیتے تھے اور بائیں طرف دیکھتے تھے تو رو دیتے تھے۔انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔و خوش آمدید ، اے میرے نیک بیٹے اور نیک پغیر ور میں نے جبرائیل سے پوچھا۔کہ یہ کون