مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 79 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 79

وفات کا دن ہے اور اگر یہ تین چار منٹ خیریت سے گذر جائیں تو ایک ہفتہ (یعنی اگلے جمعہ تک زندگی اور بڑھ سکتی ہے دعا کرنی شروع کی مگر جلد ہی اندر سے بلاوا آگیا کہ میر صاحب کا سانس اکھڑ رہا ہے۔؟ الفضل و اگست ۱۹۴۷، ص۵۷۲) حضرت میر صاحب کی المناک وفات کی خبر آناً فاناً قادیان کے گوشے گوشے میں پھیل گئی اور بہت سے احباب آپ کی کوبھٹی پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔آپ نے عرصہ ہوا اپنی تجہیز وتکفین سے متعلق خود مفصل ہدایات وصیت کے طور پر تحریر فرما دی تھیں حتی کہ اپنے کفن کا بھی انتظام فرما لیا تھا۔چنانچہ رات ہی کو آپ کی وصیت کے مطابق حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی ، جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی اور جناب حکیم عبد اللطیف صاحب گجراتی نے آپ کو غسل دیا اور تجہیز و تکفین کی۔اگلے دن ( ۱۹ و فالر جولائی) کو صدر ضمین کے تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تعطیل کر دی گئی۔صبح ہی سے احباب اور خواتین آپ کی کوشٹھی پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔آٹھ بجے کے قریب سید نا حضرت مصلح موعود بھی تشریف لے آئے۔اور ایک بڑے مجمع کے درمیان آپ کا جنازہ اٹھایا گیا۔راستے میں مجمع پر لیے بڑھتا چلا گیا۔ہر شخص جنازہ کو کندھا دینے اور اس طرح ایک ایسے وجود کا حق الخدمت ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو عمر بھر نہایت بے نفسی کے ساتھ بنی نوع انسان کی دینی اور دنیوی خدمت کرتا رہا۔جب جنازہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے باغ میں پہنچا تو حضرت مصلح موعود نے اپنی نگرانی میں صفوں کو درست کر دیا اور پھر ایک بہت بڑے مجمع کے ہمراہ جو انیس لیسی صفوں پر مشتمل تھا نماز جنازہ ادا فرمائی۔نماز جنازہ میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد کا اندازہ چھ اور سات ہزار کے درمیان ہے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت المصلح الموعود نے اپنے دست مبارک سے کفن کا منہ کھولا اور حضرت میر صاحب کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اور پھر