مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 696 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 696

۶۹۵ سوامی جی نے تفاصیل سُن کر کہا کہ شاستروں میں لکھا ہے جو عورت ایسا پاپ کرے وہ دوسرے جنم میں گائے پیدا ہوگی۔مرد کے بارے میں صراحت نہیں شاید وہ سانڈ پیدا ہو۔یا ایسا ہی کوئی اور جنم لیتا ہو۔جہانہ جی نے کہا کہ آئندہ جہنم کی بابت میں نہیں پوچھتا۔اب کیا کروں اس پر سوامی صاحب سر ہلا کہ بولے کہ اب تو جو کہ چکے سو کہ چکے وہ تو معاف ہوتا نہیں اور آئندہ جو جنم لو گے وہ رکھتا نہیں۔بیسن کر بے چارے واپس آگئے اور اپنے دوستوں کے سامنے یہ حال شنایا تو وہ کہنے لگے کہ بھٹی دو جنینم تو جب آئے گا سو آئے گا۔تم اب کیوں ایسے پر ہیز گار بنتے ہو۔اب تو تم کو سانڈ بنتا ہی ہے۔وہ سزا تو مل نہیں سکتی۔اس دُنیا کے مزے کیوں چھوڑتے ہو۔ایک دفعہ بیل بنے یا سانڈ جنم لیا سب برابر ہے۔چنانچہ ماشہ جی نے سمجھ لیا کہ جو ہو گیا اس کی تلافی نہیں ہو سکتی اور آئندہ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔اگر بیل یا سانڈ بھی بن گئے تو بھی کیا نقصان ہے۔اس لئے وہ بھی بے پرواہ ہو کر دنیا کی بد اعمالیوں میں غرق ہو گئے اور آریہ محبت ان کو پاک نہ کر سکا۔اور نہ آئندہ ان کی اصلاح ہوئی۔مثال نمبر ۳ اب شیخ عبد التواب کا حال سینے۔یہ صاحب ایک متمول باپ کے وارث ہوئے لیکن تعلیم دینی اچھی تھی اور بزرگوں کی صحبت کا فیض حاصل کر چکے تھے۔باپ کی دولت ملتے ہی حسب معمول آوارہ گردان کے گرد بھی جمع ہونے شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ بڑی صحبت اور آزادی کی وجہ سے یہ بھی پھسل پڑے۔چنانچہ ایک دن یہاں تک نوبت پہنچی کہ شراب نوشی تک کا ارتکاب کر لیا۔فطرت نیک تھی اور دین کا علم دل میں محفوظ نشہ اترنے کے بعد تین دن سرگرداں رہے۔اپنی حالت اور اپنے خاندان کی حالت اور اپنے گناہ اور اپنی تعلیم اور ان باتوں کے نتائج پر غور کیا تو نہایت پریشان ہوئے اور