مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 695
۔༥༤་ سے پیدا ہوا ہے کہ اسلام گناہ کو بے سرا کے چھوڑ دیتا ہے۔اگر توبہ کے حقیقی معنی اور گناہ کے سنرا کی نوعیت معترض پر واضح ہو جائے تو امید ہے کہ پھر ایسے اعتراض کی گنجائش نہ ہے۔میں اس مسئلہ کو دلائل سے نہیں بلکہ مثال سے واضح کرتا ہوں کیونکہ عمل کو انسان دلائل کی نسبت زیادہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔مثال نمبر ا مسٹر متلاشی مسیح نے اپنے دفتر کی رقم میں سے کچھ رقم کا فین کیا۔کیونکہ پہلی بار ایسا کیا تھا۔ان کے ضمیر نے ملامت کی اور وہ اپنے پادری صاحب کے پاس پہنچے اور کہا کہ مجھ سے ایک بڑا کام ہو گیا ہے آپ مجھے مشورہ دیں کہ کیا کروں۔انہوں نے کہا کہ تم بچے دل سے خداوند مسیح پر ایمان رکھو وہ تمہارے سبب بوجھ اٹھا لے گا۔اس پر متلاشی مسیح صاحب نے امنا و صدقنا کہا اور سارے گناہ کا بوجھ ان کے دل پر سے دُور ہو گیا۔اور ان کی تسلی ہو گئی کہ جب میرے گناہ کا اٹھانے والا موجود ہے پھر مجھے کیا فکرہ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے بد اعمال میں اور دلیر ہو گئے اور دل کھول کر ہر نا جائز آمدنی پر ہاتھ مارنے لگنے اور اس بات پر مطمئن ہو گئے کہ ایک عیسائی کے لئے کوئی گناہ گناہ ہی نہیں۔اور اس طرح کفارہ ان کی اصلاح کرنے میں فیل ہوا ؟ مثال نمبر ۲ اور ایک ماشہ نے بعض بد اطوار دوستوں کے اثر کی وجہ سے ایک نامناسب مجلس میں شمولیت اختیار کی اور حالات کا اثر ایسا ہوا کہ ان لوگوں کے ساتھ ہی وہ بھی بدکاری ہیں ملوث ہو گئے۔مگر چونکہ ایک بڑا گناہ کیا تھا ان کو صبر نہ آیا اور سیدھے سوامی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ مجھ سے ایک بڑا پاپ سرزد ہو گیا ہے مجھے کوئی صلاح دیں۔