مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 697
سوچنے لگے کہ کیا کیا جائے۔نیر استہ تو ہلاکت کا ہے اور چند دن میں مال صحبت ، عزت اور خاندان سب کی تباہی ہے۔اور اس سے زیادہ خدا کی ناراضی۔اس وقت ان کے استاد صوفی حقیقت الدین کی تعلیم ان کے کام آئی اور انہوں نے اللہ کہ پہلے غسل کیا۔پھر اپنے کرے کا دروازہ بند کر کے نفل نماز میں کھڑے ہو گئے۔اور نہایت گریہ وزاری اور عجز و انکسار سے اس نماز کے ہر رکن کو ادا کیا۔سرجھکا ہوا تھا۔اور آنکھوں سے مسلسل اشک رواں تھے۔قیام میں نہایت عاجزی سے یہ دعا کی کہ یا اللہ میں نے بڑا گناہ کیا ہے۔تیرے حکم کی مخالفت کی اور اپنے نفس پر سخت ظلم کیا۔میں اپنی نالائقی کا اقرار کرتا ہوں۔میں سخت نادم اور شرمندہ ہوں۔مجھے معاف فرما اور درگزر فرما۔نہیں نالائق کمزور اور بے مجھے بندہ ہوں میری چشم پوشی اور پر وہ پوشی فرما۔اسی در کے سوا اب کہاں معافی مانگنے جاؤں کہ تیرے ہوا کوئی بخشنے والا نہیں۔غرض پڑے سوز و گداز سے وہ اپنے گناہ کا اقرار کرتے اور اپنے خدائی سے معافی مانگتے رہے۔رکوع میں گئے تو اس سے بھی زیادہ رقت تھی اور بار بار عاجزانہ کہتے تھے کہ اے میرے خداوند جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے آئندہ ساری عمر کبھی ایسا فعل پھر نہیں کروں گا۔کبھی نہیں کہ دوں گا کبھی نہیں کردوں گا۔کبھی نہیں کروں گا اور پکا عہد کرتا ہوں کہ اگر انسان کی نسل اور مسلمان کا فرزند ہوں تو اب ہرگز ہرگز ایسی بات کے پاس بھی نہیں بھٹکوں گا۔اے میرے رب میں بچے دل سے تیری ہی قسم کھا کہ اقرار کرتا ہوں کہ مجھ سے پھر ایسی غلطی سرزد نہ ہو گی۔مجھے معاف کر کہ تو غفور و رحیم ہے اور مجھے طاقت دے کہ میں اپنے تو بہ کے عہد پر قائم رہوں کہ تیرے فضل اور رحم کے سوا میں کمزور ہوں۔سجدہ میں گئے تو سوز و گداز اور بھی زیادہ ہو گیا۔اور سر نیاز کو زمین پر رکھتے ہی عبدالتواب کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے اپنے رب کے حضور گریہ کیا کہ عرض کیا کہ اسے میرے اللہ جو کچھ سرزد ہو چکا اسے معاف فرما اور آئندہ کے لئے توفیق دے کہ پھر ایسی بات میں مبتلا نہ ہوں اور میرے عہد کو نبھانے میں میری مدد کہ جو غلطی کر چکا ہوں وہ پھر نہ