مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 636
۶۳۵ شعر اکثر ہوں اور بے دین، فاسق فاجر طبقہ اس کا مرید ہو وہ بڑا شاعر ہے۔دوسری علامت بُڑے شاعروں کی یہ ہے کہ وہ ہر جنگل میں سرگردان پھرتے ہیں لینی کبھی کم یلا کا واقعہ لکھ کر لوگوں کو رلاتے ہیں اور کبھی نہ لیہ اور مزاحیہ کلام سے لوگوں کو ہنساتے ہیں کبھی موحد بن جاتے ہیں۔اور کبھی مشرک کبھی بے جا تعریف امرا کی کرتے ہیں کبھی کسی کی ہجو میں صفحے کے صفحے سیاہ کر دیتے ہیں۔کبھی سوال کرتے اور مانگتے ہیں۔کہیں نیچرل کے رنگ میں سر نکالتے ہیں تو کہیں سیاسی رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔عرض کچھ پتہ نہیں لگتا کہ ان کا اصلی اور مرکزی نقطہ کیا ہے۔بلکہ ہر فن مولا بازیگروں کی طرح جیسا موقع ہوا اور مانع کی آوارگی جدھر بھی لے جائے ویسے ہی اشعار کہنے لگتے ہیں۔بلکہ ایک ہی تغزل کے ہرشعر میں ایسے ایسے مضامین ہوتے ہیں جن میں آپس میں بعد المشرقین ہوتا ہے۔ابھی ایک آدمی کی تعریف کر رہے ہیں۔جب حسب خواہش انعام نہ ملا۔تو انسی کی ہجو اور مذمت میں مصروف ہیں۔مرکزی اصل اور استقلال کسی ایک مضمون یا حال سے نہیں ہوتا بلکہ تھالی کے بینگن ہوتے ہیں۔۱۳ تیسری صفت ان بڑے شاعروں کی یہ ارشاد فرمائی کہ جو اشعار وہ لکھتے ہیں۔ان کے مضمون کے بر خلاف خود عمل کرتے ہیں۔یعنی اگر اخلاقی شاعر ہیں۔تو خود نمایاں طور پر یک اخلاق ہیں۔یا مذہبی لیڈر ہیں تو خود شراب بدکاری و جوئے وغیرہ میں مبتلا ہیں۔نہ نماز پڑھتے ہیں۔نہ روزہ رکھتے ہیں۔نہ اسلام کے ظاہری احکام پر عمل ہے اور کہنے کو مصلح امت کہلانے کا دھوئے ہے۔اس سے آگے چل کر قرآن کریم فرماتا ہے۔یہ تو بڑے شاعروں کی پہچان ہم نے تم کو بائی ہے۔اب بطور استثناء ایک فرقہ نیک اور صالح شاعروں کا بھی ہے ان کی پہچان حسب ذیل ہے۔