مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 635 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 635

شاعروں کے جو ایمان لائے اور کام کئے اچھے اور یادیں اللہ کو بہت اور معلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا۔اور عنقریب ظالم بھی جان لیں گے۔کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا) یہاں اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں شاعروں کی بیان فرمائی ہیں۔جن میں سے ایک کو تیرا کہا ہے اور دوسروں کی تعریف کی ہے اور جو بڑے ہیں ان کے متعلق کہا ہے کہ ان میں تین صفات بڑی ہیں۔اس لئے وہ مردود ہیں اور جو نیک ہیں۔ان کی بھی تین ہی صفات کی تعریف کی ہے جن کی وجہ سے وہ اچھے ہیں۔اب اس معیار سے سر عقل مند شخص فوراً بڑے اور اچھے شاعر میں تمیز کر سکتا ہے۔اور اگر وہ اچھی صفات پانی مسلسلہ احمدیہ میں پائی جائیں۔اور میری صفات میں سے ایک بھی نہ پائی جائے۔تو پھر کسی کا حق ہے کہ کوئی برائی کا کلمہ ایسے بزرگ کے حق میں استعمال کر سکے۔ہاں اگر اس کے مخالف بات ثابت ہو۔تو پھر وہ بیشک اعتراض کر سکتے ہیں۔مگر یہ ہرگز جائز نہیں۔کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں تو اچھے شاعر کی تعریف کی گئی ہو۔مگر کوئی مسلمان کہلانے والا محض شاعر ہونے کی وجہ سے اس کی مذمت کرنے لگے۔اب سنیئے کہ میرے شاعروں کی صفات کیا کیا ہیں۔را ایک تو یہ ان کے متبع اور ان کو پسند کرنے والے اور ان کو اپنا لیڈر سمجھنے والے گمراہ شریعہ اور فاسق اور تاجر لوگ ہوا کرتے ہیں۔یعنی وہ شاعر غیر مومن ، غیر متقی ، بدکار، شرابی ید چین طبقہ میں ہر دلعزیز ہوتے ہیں جیسے کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض شاعروں کی غزلیں ہمیشہ رنڈیاں گاتی ہیں۔اور آوارہ لوگوں کو ان کے دیوانوں کے سینکڑوں اشعار از کہر ہوتے ہیں اور ناچائنہ عاشقی معشوتی کے مصالحہ سے ان کے اشعار بھرے ہوئے ہوتے ہیں کہیں شراب و کباب کی تعریفیں ہوتی ہیں۔کہیں امروؤں کا حسن بیان ہوتا ہے۔کہیں خدا تعالے کی نافرمانی اور شیطان کی تعریف ہوتی ہے۔کہیں نا محرموں کی خوبصورتی کا ذکر ہے۔تو کہیں شہوانی جذبات کو تحریک دی جاتی ہے۔کہیں قیامت ، دوزخ جنت سے تمسخر ہوتا ہے تو کہیں نیکی نماز روزہ حج وغیرہ نیک اعمال پر آوازے کیسے جاتے ہیں۔سوجیں شاعر کے ہاں اس قسم کے