مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 537
تک میں نے غور کیا آپ کو لذیذ مزیدار کھانے کا شوق ہرگز نہ تھا۔اوقات معمولاً آپ صبح کا کھانا ۱۰ بجے سے ظہر کی اذان تک اور شام کا نماز مغرب کے بعد سے سونے کے وقت ایک کھا لیا کرتے تھے کبھی شاذ و نادر ایسا بھی ہوتا تھا کہ دن کا کھانا آپ نے بعد ظہر کھایا ہو شام کا کھانا مغرب سے پہلے کھانے کی عادت نہ تھی۔مگر کبھی کبھی کھا لیا کرتے تھے مگر معمول دو طرح کا تھا۔جن دنوں میں آپ بعد مغرب عشا تک باہر تشریف رکھا کرتے تھے اور کھانا گھر میں کھاتے تھے ان دنوں میں یہ وقت عشا کے بعد ہوا کرتا تھا دورنہ مغرب اور عشاء کے درمیان۔مدتوں آپ باہر مہمانوں کے ہمراہ کھانا کھایا کرتے تھے اور یہ دستر خوان گول نکرہ یا مسجد مبارک میں بچھا کرتا تھا اور خاص مہمان آپ کے ہمراہ دستر خوان پر بیٹھا کرتے تھے۔یہ عام طور پر وہ لوگ ہوا کرتے تھے جن کو حضرت صاحب نامزد کر دیا کرتے تھے۔ایسے دسترخوان پر تعداد کھانے والوں کی دس سے پچیس تک ہو جایا کرتی تھی۔گھر میں جب کھانا نوش جان فرماتے تھے تو آپ کبھی تنہا مگر اکثرام المومنین اور کسی ایک یا سب بچوں کو ساتھ لے کر تناول فرمایا کرتے تھے۔یہ عاجز کبھی قادیان میں ہوتا تھا تو اس کو بھی شرف اس خانگی دستر خوان پر بیٹھنے کا مل جایا کرتا تھا۔سحری آپ ہمیشہ گھر میں ہی تناول فرماتے تھے۔اور ایک دو موجودہ آدمیوں کے ساتھ یا تنہا سوائے گھر کے باہر جب کبھی آپ کھانا کھاتے تو آپ کسی کے ساتھ نہ کھاتے تھے۔یہ آپ کا حکم نہ تھا مگر خدام آپ کو عزت کی وجہ سے ہمیشہ الگ ہی برتن میں کھانا پیش کیا کرتے تھے۔اگر چہ اور مہمان بھی سوائے کسی خاص وقت کے الگ الگ ہی برتنوں میں کھایا کر تے تھے۔