مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 538
۵۳۷ کس طرح کھانا تناول فرماتے تھے جب کھانا آگے رکھا جاتا یا دستر خوان بجھتا تو آپ اگر مجلس میں ہوتے تو یہ پوچھ لیا کرتے کیوں جی شروع کریں ؟ مطلب یہ کہ کوئی مہمان رہ تو نہیں گیا۔یا سب کے آگے کھانا آ گیا۔پھر آپ جواب ملنے پر کھانا شروع کرتے۔اور تمام دوران میں نہایت آہستہ آہستہ چاچیا کر کھاتے۔کھانے میں کوئی جلدی آپ سے صادر نہ ہوتی۔آپ کھانے کے دوران میں ہر قسم کی گفتگو فرمایا کر تے تھے۔سالن آپ بہت کم کھاتے تھے اور اگر کسی خاص دعوت کے موقعہ پر دو تین قسم کی چیزیں سامنے ہوں تو اکثر صرف ایک ہی پہ ہاتھ ڈالا کرتے تھے۔اور سالن کی جور کا بی آپ کے آگے سے اُٹھتی تھی وہ اکثر ایسی معلوم ہوتی تھی کہ گویا اسے کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔بہت بوٹیاں یا تر کاری آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی۔بلکہ لعاب سے اکثر چھوا کر پکڑا کھا لیا کرتے تھے۔بقیہ چھوٹا ہوتا تھا اور روٹی کے ٹکڑے آپ بہت سے کر لیا کرتے کڑ تھے اور یہ آپ کی عادت تھی۔دستر خوان سے اُٹھنے کے بعد سب سے زیادہ کھڑے روٹی کے آپ کے آگے سے ملتے تھے اور لوگ بطور تبرک کے اُن کو اٹھا کر کھا لیا کرتے تھے۔آپ اس قدر کم خود تھے کہ باد جو دیکہ سب مہمانوں کے برابر آپ کے آگے کھانا رکھا جاتا تھا مگر پھر بھی سب سے زیادہ آپ کے آگے سے بچتا تھا۔اور بعض دفعہ تو دیکھا گیا کہ آپ صرف روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے تھے۔اور پھر انگلی کا سرا شور ہے میں ترکی کے زبان سے چھوا دیا کرتے تا کہ لقم نمکین ہو جاوے۔پچھلے دنوں میں جب آپ گھر میں کھانا کھاتے تھے تو آپ اکثر صبح کے وقت مکی کی روٹی اکثر کھایا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کوئی ساگ یا صرف انسی کا گلاس یا کچھ مکھن ہوا کرتا تھا۔یا کبھی اچار سے بھی لگا کہ کھا لیا کرتے تھے۔آپ کا کھانا صرف اپنے کام کے لئے قوت حاصل کرنے کے لئے ہوا کرتا تھانہ کہ لذت نفس کے لئے۔بارہا آپ نے فرمایا کہ میں توکھانا کھا کر بھی معلوم