مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 536 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 536

۵۳۵ چوڑا ہوتا تھا۔چادر بستر کے اوپر اور تکیہ۔اور تو شک آپ گرمی جاڑے دونوں موسموں میں بسبب سردی کی ناموافقت کے بھواتے تھے۔تخریبہ وغیرہ کا سب کام پلنگ پر ہی اکثر فرمایا کرتے اور دوات قلم بستہ اور کتا ہیں یہ سب چیزی پلنگ پر موجود رہا کرتیں تھیں۔کیونکہ یہی جگہ میز کہ کسی اور لائبریر ہی سب کا کام دیتی تھی۔اور ما انا من المتکلفین کا عملی نظارہ خوب واضح طور پر نظر آتا تھا۔ایک بات کا ذکر کر نا میں بھول گیا۔وہ یہ کہ آپ امیروں کی طرح ہر رونہ کپڑے نہ بلکہ لا کر تے تھے۔بلکہ جب ان کی صفائی میں فرق آنے لگتا۔تب بدلتے تھے۔خوراک کی مقدار قرآن شریف میں کفار کے لئے وارد ہے یا کلون كما تاكل الانعام اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ کا فرسات انتری میں کھاتا اور مومن ایک میں مراد ان باتوں سے یہ ہے کہ مومن طبیب چیز کھانے والا اور دنیا دار یا کافر کی نسبت بہت کم خور ہوتا ہے۔جب مومن کا یہ حال ہوا تو پھر انبیاء اور مرسلین علیہم السلام کا توی کہنا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر بھی اکثر ایک سالن ہی ہوتا تھا۔جبکہ شستشو یا صرف کجھور یا دودھ کا ایک پیالہ ہی ایک غذا ہوا کرتی تھی۔اسی سنت پر ہمارے حضرت اقدس (آپ پر سلامتی ہو) بھی بہت ہی کم خود تھے۔اور بمقابلہ اس کام اور محنت کے جس میں حضور دن رات لگے رہتے تھے۔اکثر حضور کی غذا دیکھی جاتی تو بعض اوقات حیرانی سے بے اختیار لوگ یہ کہ اُٹھتے تھے کہ اتنی خوراک پر یہ شخص زندہ کیونکہ رہ سکتا ہے۔خواہ کھانا کیسا ہی عمدہ اور لذیذ ہو اور کیسی ہی بھوک ہو آپ کبھی حلق تک ٹھونس کر نہیں کھاتے تھے۔عام طور پر دن میں دو وقت مگر بعض اوقات جب طبیعت خراب ہوتی تو دن بھر میں ایک ہی دفعہ کھانا نوش فرمایا کرتے تھے۔علاوہ اس کے چائے وغیرہ ایک پیالی صبح کو بطور ناشتہ بھی پی لیا کرتے تھے مگر جہاں