مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 492 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 492

۴۹۱ غزده اوطاس • حسین کی جنگ کے بعد آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم نے ابو عامر محالی کو ایک شکر کا سردار بنا کہ اور اس کی طرف بھیجا۔وہاں ڈرید بن صمہ فوج لئے مقابلہ کو پڑا تھا حضرت ابو موسی اشعری کہتے ہیں۔کہ میں بھی لشکر اسلام کے ساتھ تھا۔اس جنگ میں کافروں کا پر سالار درید مارا گیا۔مگریش کر اسلام کے سردار ابو عامر کو بھی ایک تیرا ایسا لگا کہ اس کے گھٹنے کے اند نیکی گیا۔میں نے ابو نام سے پوچھا کہ چھا تمہیں کس نے تیر مارا۔انہوں نے مجھے اشارہ سے بتایا کہ وہ شخص میرا قاتل ہے۔میں جھپٹ کر اس کے پاس پہنچا۔وہ مجھے دیکھتے ہی بھاگا۔میں بھی اس کے چھے بھاگتا جاتا تھا۔اور کہتا تھا۔کہ اوبے جیا بزدل تجھے شرم نہیں آتی۔ٹھہرتا کیوں نہیں اس پر وہ ٹھہر گیا۔اور میری اور اس کی لڑائی ہوئی ، میں نے اسے ہلاک کر دیا۔واپس آکر ابو عامر سے کہا کہ اللہ نے تمہارے قاتل کو ہلاک کر دیا۔پھر وہ بولے کہ اب یہ تیر توں کا لو میں نے تیر کالا تو گھٹنے میں سے پانی بہنے لگا۔انہوں نے کہا۔کہ اسے ابو موسیٰ اس زخم سے میں نہیں بچوں گا، تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو میری طرف سے سلام عرض کرنا اور کہنا کہ ابو عامر کے لئے بخشش کی دعا کریں۔پھر ابو عامر نے مجھے لشکر کا سردار بنایا اور تھوڑی دیر میں فوت ہو گئے ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس ہوا تو اس وقت آپ ایک چارپائی ر لیٹے تھے۔اور اس کی رسیوں کے نشان آپ کی پیٹھ اور پہلو پر پڑ گئے تھے۔میں نے سب حال عرض کیا اور دعا کی درخواست کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا اور پھر ہاتھ اٹھا کر ابو عامری کے لئے دعا فرمائی۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے لئے بھی۔اس پر آپ نے میرے لئے بھی دعا فرمائی۔