مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 493 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 493

۴۹۲ فتح مکہ کے بعد اشاعتِ اسلام حضرت عمر دین مسلم صحابی بیان کرتے تھے کہ ہمارا قبیلہ ایک چشمہ پر رہا کرتا تھا۔اور مسافر لوگ اکثر وہاں سے گذرا کرتے تھے۔جو کوئی مسافر گزرتا اس سے ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پوچھا کرتے تھے۔کہ یہ کیسا آدمی ہے۔اور کیا بیان کرتا ہے۔مسلمان لوگ ہم کو بتاتے کہ یہ شخص کہتا ہے۔کہ میں خدا کا رسول ہوں اور مجھ پر دمی آتی ہے۔اور خدا نے مجھے پر یہ وحی بھیجی ہے۔پھر وہ ہم کو قرآن سناتے تو ہیں وہ یاد کر لیتا تھا۔اور عرب کے لوگ مسلمان ہونے کے لئے صرف فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔اور کہتے تھے کہ محمد اور کس کی قوم آپس میں نمٹ ہیں۔اگر محمد ان پر غالب آگیا تو وہ سچا نبی ہے۔پھر جب مکہ فتح ہو گیا۔تو ہر قوم اسلام لانے میں جلدی کرنے لگی۔اور میرے والد نے بھی اس کام میں بہت جلدی کی۔چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کہ مسلمان ہو گئے۔جب وہ مدینہ سے واپس آئے تو کہنے لگے کہ اسے میرے قبیلہ والو میں پیچھے نبی کے پاس ہو آیا ہوں۔اور اس نے فرمایا ہے۔کہ تم لوگ پانچ پانچ نمازیں ان وقتوں میں پڑھا کرو۔اور نماز سے پہلے اذان دیا کرو اور جو تم میں سب سے زیادہ قرآن جانتا ہو وہ نماز پڑھائے ، غرض سب لوگ مسلمان ہو گئے۔اور جب تحقیقات کی گئی۔تو مجھ سے زیادہ کوئی قرآن کا حافظ نہ نکلا۔کیونکہ میں نے مسلمان مسافروں سے سُن سُن کر بہت سی سورتیں یا د کر رکھی تھیں۔چنانچہ سب نے مجھے اپنا امام بنا یا۔میری عمر اس وقت چھ سات سال کی ہوگی۔اور میرے پاس صرف ایک چھوٹی سی چادر تھی۔جب میں سجدہ کرتا تونگا ہو جاتا تھا۔ایک دن ایک عورت کہنے لگی۔کہ لوگو تم اپنے امام کے چوتڑ تو ڑھا لکھو۔یہ ہمارے سامنے ننگا ہوتا ہے۔اس پر لوگوں نے کپڑا خریدہ کہ ایک لمبا سا کہ یہ مجھے بنا دیا جب میں نے دوہ کر نہ پہنا تو اتنا خوش ہوا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔