مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 491
۲۹۰ کو اپنے سامنے بیٹھا لیا۔انصاف کا تقاضا (فتح طائف) فتح مکہ کے بعد طائف کے لوگوں کو قلعہ بند چھوڑ کر آپ مدینہ تشریف لے آئے تھے۔تمام عرب میں اب طائف ہی ایک ایسا مقام تھا۔یہاں کے لوگوں نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔اس علاقہ میں مختر نامی ایک مسلمان رئیس تھے۔انہوں نے آپ کے بعد طائف والوں کو ایسا تنگ کیا اور دیا یا کہ آخر کار وہ مطیع ہونے پر راضی ہو گئے۔اور اسلام بھی لے آئے۔محترم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کی اطلاع دی۔چند دنوں میں خود طائف والوں کا دند حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کیا کہ ہماری ایک صورت مختر کے قبضہ میں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحر کو بلا بھیجا۔اور جب وہ آئے تو حکم دیا۔کہ ان کی عورت کو اس کے گھر پہنچا دو۔پھر اس کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا۔کہ میں زمانہ میں ہم کافر تھے۔صخر نے ہمارے شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔اب ہم اسلام لے آئے ہیں۔ہما را چشمہ میں ملنا چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر صفحہ کو بلا بھیجا۔اور فرمایا۔کہ جب کوئی قوم اسلام قبول کرتی ہے۔توان کی جان اور ان کے مال محفوظ ہو جاتے ہیں۔اس لئے تم ان کا چشمہ ان کو واپس کو دو سفر نے تعمیل حکم کی راوی بیان کرتے ہیں۔کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں حکم فخر نے منظور کر لئے تو میں نے دیکھا۔کہ حضور کا چہرہ مبارک شرم سے سرخ ہوگیا۔کہ مصر کو فتح طائف کے بدلے ان دو معاملوں میں الٹی شکست اٹھانی پڑی۔مگر کیا کرتے انصاف اور اسلام کا تقاضا یہی تھا۔۔