مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 373
٣٧٢ پس جس سورۃ پر یہ مقطعہ ہو گا۔ہم اس کے مضامین کو دیکھ کر فتوے دیں گے کہ اس سورۃ کے مضامین کے لحاظ سے یہ منقطعہ فاتحہ کی کسی آیت یا کن آیات کے مجموعہ کا اختصار ہے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ مقفہ کے حروف ان آیات میں موجود ہوں اور نہ صرف موجود ہوں بلکہ ضروری حصہ ان کا موجود ہو۔مثلاً صراط کے حروف مقطعات یا حق بات ہو سکتے ہیں مگر د اور الف نہیں ہو سکتے کیونکہ اختصار کے وقت ہمیشہ نمایاں حروف کو سامنے لایا جاتا ہے۔ایک آیت کے لئے کئی مقطعات ہو سکتے ہیں۔یہ بات عام ہے اور معیوب نہیں۔مگر ایک منقطعہ کے معنی اکثر جگہ ہمیشہ الگ الگ ہوں۔یہ بات نہایت شاذ ہے۔کیونکہ ایسا ہو تو احسن نہیں رہتا۔پس یہ بات گوشانہ ہے مگر ممکن ہے۔ن حروف مقطعات میں نہیں ہے میرے نزدیک سورۃ قلم میں جوان ہے وہ مقطعات میں نہیں ہے۔اور اس کے چند دلائل ہیں۔۱۔پہلی دلیل یہ ہے کہ نون ایک بامعنی لفظ ہے جس کے معنی دوات کے سب عربی ڈکشنریوں میں لکھے ہیں۔اور مقطعات کے بذات خود کوئی معنی کسی جگہ نہیں ہوئے۔۲۔دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن میں ہر مقطعہ کے بعد یا آیت کا نشان ہے یا وقف کا نشان ہے۔مگرن کے بعد نہ آیت ہے نہ وقف۔پس وہ مقطعہ نہ ہوا۔یعنی کیا ہوا ٹکڑا جو اگلی آیت سے علیحدہ ہو۔جبکہ وہ ایک صاف اور روان عبارت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ دمات اور قلم اور جو کچھ ان سے لکھا جاتا ہے (ان کے مطالعہ کا نتیجہ تو ہی ہوگا) کہ تو اے محمدؐ اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں ہے۔پس جو لفظ ایک مسلسل آیت کا با معنی حصہ ہے وہ مقطعہ نہ ہوا۔تیسری دلیل یہ ہے کہ حرف آن فاتحہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔نہ کسی خاص