مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 372 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 372

٣٤١ آر میں این کے معنی نارتھ کے ہوں گے اور جس ڈیہ پر این۔جی۔ایں۔اگر (N۔G۔S۔R) لکھا ہو گا۔اس کو ہم نظام گارنٹیڈ سٹیسٹ ریلوئے پڑھیں گے۔یہ نہیں کہ وہاں بھی این کو تاریخ کا مخفف سمجھیں۔یہ نکتہ علاوہ دنیا کے رواج کے میں نے حضرت مسیح موعود ( آپ پر امتی ہوں کے الہامات سے بھی سمجھا ہے۔حضور کو اپریل شہر میں الہام ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کی بیوی مرض سیل سے بیمار ہے۔اس کی نسبت الہام ہوا ہے۔حسم تلك آيات الكتاب المبین به فرمایا که فقط حسم میں بہار کا نام بطور اختصار ہے، یعنی محمد جامی مگر ایک سال پہلے یعنی اپریل شاہ میں حضور کو یہی الہام ہوا کہ حسم هو تلك ایت الكتب TADTOANLANDALANA فرمایا کہ محمد مقطعات میں کسی کا نام ہے۔آگے سارے باقی متعلقہ الہامات پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر یہ سب سلسلہ الہامات غیر مبالغین کے لئے ہے۔پس یہاں جسم جو کسی کا نام ہے وہ محمود ہی ہو سکتا ہے اور کوئی نہیں۔پس یہ معاملہ صاف ہو گیا کہ جس طرح کبھی محمدی بیگم کے لئے حسم آسکتا ہے تو کبھی محمود کے لئے۔تو ایک ہی مقطعه بوقت ضرورت مختلف اشخاص یا آیات کے لئے بولا جاسکتا ہے۔جہاں ده حروف پائے جاتے ہوں۔نیز ان الہامات سے یہ بھی استنباط ہوتا ہے۔خسر کا مقطع اسماء کے لئے استعمال ہونا چاہیئے۔چنانچہ میری تحقیق میں وہ الحمد کے سب اسماء الہی کا ہی نمائندہ ہے۔یعنی فاتحہ کی آیات نمبر ۲-۳-۴ کا۔اسی طرح یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ میں طرح ایک ہی مقطعہ دو مختلف معنی دے سکتا ہے۔اُسی طرح ایک آیت یا ایک لفظ کے لئے موقع اور محل کے لحاظ سے الگ الگ کئی مقطعات بن سکتے ہیں۔مثلاً س اور قی دونوں مستقیم کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں۔می اور کا دونوں صراط کے لئے مخفف کئے جاسکتے ہیں۔حم - الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کی جگہ بھی آسکتا ہے اور الحمد لله رب العلمین کی جگہ بھی اور الْحَمْدُ لِلَّهِ ربِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمُ۔ملک یوم الدین کے مجموعہ کے لئے بھی