مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 365 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 365

۳۶۴ مقطعہ ہے۔پس جہاں سے بھی یہ نتیجہ نکلا۔جب ایک مقطعہ الحمد کے ایک حصہ کا اختصار معلوم ہوتا ہے تو دوسرے مقطعات بھی غالباً فاتحہ ہی کئے ٹکڑے ہوں گے صرف غور کرنے اور سوچنے کی دیر ہے مشتے نمونہ فردارے پانچواں قرینہ پانچواں قرینہ سب سے زبردست ہے اور وہ یہ ہے کہ فاتحہ کو خود اللہ تعالٰی نے سَبْعًا مِنَ الثاني فرمایا ہے۔یعنی وہ سات آیتیں جو مثانی ہیں۔مثانی کے معنی لوگوں نے عجیب عجیب گئے ہیں یعنی سورہ فاتحہ بار بار پڑھی جاتی ہے اس لئے مثانی ہے۔میں پوچھتا ہوں۔کیا قرآن کی اور آیات اور درود اور تسبیح اور دعائیں یہ سب بار بار نہیں پڑھے جاتے۔پس یہ کوئی ایسا امتیاز نہیں ہے۔دوسرے معنی یہ کئے ہیں کہ یہ سورۃ مکہ میں ایک دفعہ نازل ہوئی اور دوسری دفعہ مدینہ ہیں۔یہ توجیہ بھی قابل اعتنا نہیں ممکن ہے یہ درست ہو۔مگر دو وقعہ صرف فاتحہ کی آیات ہی نازل نہیں ہوئیں۔بلکہ قرآن ہیں بہت سی آیات ہیں جو دو دو تین تین سات سات - دس دس دفعہ نازل ہوئیں۔اور آیت نباتي الكريكُمَا نَكَذِ بن تو اکتیس دفعہ نازل ہوتی ہے۔سو یہ کوئی خصوصیت فاتحہ ہی کی نہیں۔بلکہ اور بہت سی آیات کی بھی ہے۔نہیں صرف دہرایا جاتا یا ایک دفعہ سے زیادہ نازل ہوتا کوئی خاص خصوصیت فاتحہ کی نہیں۔اب ہم لعنت کی طرف رجوع کرتے ہیں۔جس کی طرف عربی دان خود رجوع کریں مجھے تو یہ معلوم ہوا ہے کہ مثانی مشمٹی کی جمع ہے۔تسهيل العربیہ) یعنی اس کی سب آیتیں دو دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں۔اور مفردات راغب میں بھی اس کے معنے مکتیر کے لکھے ہیں اور مثانی ان چیزوں کو کہتے ہیں جو ما بعد الاول ہوں یعنی ایک دقعہ کے بعد مکرر آئیں اور بخاری کتاب التفسیر میں بھی یہی ذکر ہے کہ فاتحہ دوبارہ نازل ہوئی ہے۔اور شانی کا ترجمہ وہاں مولوی وحید الزماں صاحب نے بھی