مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 366
۳۶۵ یہی کیا ہے۔کہ مہجو دوبارہ پڑھی جاتی ہیں۔، پس خلاصہ کلام یہ ہوا کہ سورہ فاتحہ سات آیتوں والی وہ صورت ہے۔جو ساری کی ساری مکرر یعنی دو دفعہ نازل ہوئی ہے۔دوسری طرف جب ہم قرآن مجید کا رویہ دیکھتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ جو آیت بھی اس میں دوسری تیسری یا زیادہ دفعہ نازل ہوئی ہے وہ تحریر میں آگئی ہے اور قرآن میں موجود ہے۔یہ نہیں کہ ایک آیت جب دوسری دفعہ نازل ہو تو اُ سے تحریر میں نہ لایا جائے۔جبکہ متبنی دقعہ وہ نازل ہوئی ہے۔اتنی ہی دفعہ وہ تحریر قرآن میں موجود ہے بس ضروری ہے کہ فاتحہ بھی جب مکرر نازل ہوئی ہے تو قرآن میں کسی دوسری جگہ موجود ہو۔ورنہ دعوئے مثانی ہونے کا غلط ثابت ہوتا ہے۔اب ہمیں سوائے اس کے چارہ نہ رہا کہ جب ایک فاتحہ موجود ہے تو دوسری فاتحہ کو تلاش کریں۔مگر تلاش کرنے پر وہ نہیں کہیں نہیں ملتی اب آئیے میں آپ کو بتاؤں کہ وہ کہاں ہے ؟ سو دوسری فاتحہ یہی تو ہے جو مقطعات کی صورت میں نازل ہو کر سارے قرآن میں پھیلی پڑی ہے اور باوجود مشانی یعنی مکرر تحریر ہو جانے کے بھی اب تک لوگوں کو نظر نہیں آئی۔میں آپ یا تو اسی دلیل کو مانیئے اور اپنی آنکھیں فاتحہ مکرر سے روشن کیجئے۔ور نہ آپ ایک عظیم الشان قرآنی صداقت سے بہرہ اندوز نہیں ہوسکیں گے۔اور اگر یہ دوسری فاتحہ نہیں ہے۔تو پھر آپ فرمائیے کہ وہ مکرر قائمہ کہاں مخفی ہے ؟ ایک اعتراض کا جواب ان قرآن کے بعد اب میں ایک ضروری اعتراض کا جواب لکھتا ہوں جو اس ضمن میں پیدا ہوسکتا ہے۔وہ اعتراض یہ ہے کہ جب سارا قرآن فاتحہ ہی کی تفسیر ہے تو پھر بہت سی سورتوں پر مقطعات کیوں نہیں ہیں۔مثلا سورۃ قی کے بعد آخر قرآن تک کوئی مقطعات نہیں ہیں۔اور درمیان میں تسار، مائدہ، انعام - الغال ينخل بنی اسرائیل کہف - انبیاء