مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 364
٣٩٣ اندر ساری عظمتیں قرآن کی مخفی ہیں اور باقی قرآن اس کی تفصیل اس کا بیان اور اس کی حکمتیں ظاہر کرتا ہے۔اس لئے فاتحہ کو قرآن عظیم کہا گیا۔اور باقی قرآن کو قرآن عظیم نہیں کہا گیا۔بلکہ اس کو کتاب مفصل قرآن مبین اور قرآن حکیم کا نام دیا گیا۔سو ہم نے قرآن سے ہی یہ استنباط کہ دیا۔کہ فاتحہ متن ہے اور قرآن اس کی تفصیت ہیں جب ایک طرف مفسر خود کہتا ہے کہ قرآن فاتحہ کی تفسیر ہے۔دوسری طرف سجائے فاتحہ کے کچھ مقطعات سورتوں کے سر پر بطور متن کے لکھے ہوئے ہیں۔تو یہ ظاہر ہو گیا۔کہ یہ مقطعات دراصل فاتحہ کے ہی اجزاء ہو سکتے ہیں۔جن کی تفسیر ان سورتوں میں مذکو رہے کوئی علیحدہ اور نئی چیز نہیں۔چوتھا قرینہ جو منھا قرینہ یہ ہے کہ اگر تمام مقطعات کو ایک سطر میں خوشخط اور صاف صاف لکھا جائے تو اگر چہ یہ الفاظ بظاہر بے معنی ہیں۔اور ہر منقطعہ کا سورہ فاتحہ کا جزو ہوتا غور اور فکر کے بعد واضح ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے صرف ظاہری نظر سے بھی کچھ تھوڑی سی پہچان یہاں ایسی رکھ دی ہے کہ معمولی سمجھ کا انسان بھی بعض مقطعہ کو دیکھتے ہی بول پڑے گا کہ یہ تو فاتحہ کی فلاں آیت کا اختصار معلوم ہوتا ہے۔اس کے سوا اور طرف اس کا ذہین نہیں جائے گا۔مثلا الم - کھیعص۔ق۔حق النمو وغیرہ کو دیکھ کر نا واقف آدمی کہہ دے گا کہ مجھے معلوم نہیں ان کا کیا مطلب ہے۔مگر طلسم کی بابت اس کو اگر پوچھا جائے کہ بھلا یہ کس قرآنی آیت کا اختصار ہو سکتا ہے تو فوراً وہ کہہ دے گا یہ مقطعہ تو حواط مستقیم سے بہت متا جاتا ہے۔پس جہاں خدا تعالٰی نے بارہ مقطعات پردہ کے پیچھے اوجھل کر دیئے ہیں کہ انسان کی معمولی نظر ان کی کنبہ کو جلدی نہ معلوم کر سکے وہاں ایک مقطعہ کو بطور نمونہ نہایت واضح طور پر ایسا بنا دیا ہے کہ اس کی بناوٹ دیکھ کر ہی انسان فوراً یہ بول اُٹھے کہ ہو نہ ہو یہ تو صراط مستقیم کا مخفف شده