مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 300 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 300

۲۹۹ کو تمہیں پورا کر نا ہو گا۔- پھر جب ایک طرف ان کو دنیا کا استاد بنا دیا گیا اور عورتوں کے سوا ہر قسم کے مرد بھی گروہ در گروہ ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے لئے آنے لگے اور دوسری طرف با وجود جوان ہونے کے ان کو نکاح کی ممانعت کہ دی گئی تو ضرور تھا کہ ان کی حفاظت اور طہارت کا سامان بھی دوسروں سے بڑھ کر کیا جاتا۔سو یہ حکم ملا کہ تم استنادانہ لہجہ میں لوگوں سے بات کیا کرو۔ہر گز بات چیت میں اور عورتوں کی سی نرمی اور ملائمت اور لجاجت نہ ہو۔دروازہ پر پردہ پڑا رہے تاکہ لوگ باہر ہی سے بات کر لیا کریں۔اور اتفاقی نظر بھی کسی کی ان پہ نہ پڑے۔اور لوگ ان کو اماں جان کہہ کہ خطاب کریں اور اپنے تئیں صرف شاگرد ہی نہیں بلکہ ان کا بیٹا کھیں۔غرض ان پاک عورتوں کے حالات دنیا کی دوسری عورتوں سے بالکل مختلف تھے اس لئے ان کے لئے خاص ہدایات اور احکامات نازل ہوئے تھے۔اور یہ احکام گھر کے پردہ کے ہی متعلق تھے۔اگر اتفاقیہ ان کو باہر جانا پڑتا تھا تو اس کے متعلق ان کے لئے بھی وہی احکام تھے جو دوسری تمام مومنات کے لئے تھے کیونکہ مومنات کا جلبابی پردہ اتنا کافی اور وافی تھا کہ امہات المومنین کے لئے اس میں کسی اینہادی کی ضرورت نہ تھی۔جب سر اور جسم اور چہرہ سب کچھ ڈھک جائے تو پھر کسی اور مزید احتیاط کی کچھ حاجت نہیں رہتی۔ہاں گھروں کے اندر کا پردہ چونکہ دوسری مومنات کا بہت نرم ہے اس لئے امہات المومنین کے لئے اس پر دہ میں زیادتی کی گئی۔وجہ یہ کہ اعمات المومنین کے پاس ان کے گھر پر ہر قسم کے غیر آدمی ہر وقت تعلیم حاصل کرنے کے لئے ردوسری عورتوں کا یہ حال نہ تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔