مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 299 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 299

۲۹۸ ا۔وہ ہر وقت اپنے گھروں میں حاضر رہیں۔کیونکہ اگر وہ بھی اور عورتوں کی طرح محلہ محلہ اور گھر گھر پڑی پھر تیں تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات اور دین کے مسائل پوچھنے والے مرد اور عورتیں بڑی مصیبت میں پڑ جاتے۔امہات المومنین کے گھر گویا مدرسوں کی طرح تھے اور دن رات وہ مدر سے کھلے رہتے تھے۔پس جس طرح مدرسہ کے اوقات میں ایک مدرس کا مدرسہ میں حاضر رہنا ضروری ہے۔اسی طرح ان کی حاضری اپنے گھروں میں ضروری تھی تاکہ ایسانہ ہو کہ کوئی مرد یا عورت دین کا علم سکھتے آئے اور ان کو غیر حاضر پا کر نا کام جائے۔عورت کی زینت اور سنگار اور بناؤ صرف خاوند کے راضی کرنے اور اس کے خوش کرنے کے لئے ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ دنیا کے سب سے بڑے تارک الدنیا شخص تھے اس لئے آپ کے خوش کرنے کے لئے ان کو زینت الجاہلیتہ کی ضرورت نہ منفی۔پھر چونکہ آپ کی وفات کے بعد ان کے لئے نکاح حرام تھا اس لئے بھی ان کو زینت کی ضرورت باقی نہ رہی تھی۔کیونکہ جب خاوند کرنا ہی نہیں تو اس قسم کی مردوں کو سجانے والی زینت سے کیا کام۔اس لئے بر خلاف تمام عورتوں کے امہات المومنین کے لئے رواجی زینت اور بناؤ سنگار (طہارت اور صفائی الگ چیز ہے) منع کر دیا گیا تھا۔ان کی شان دنیا میں اُستاد اور مبلغ کی شان تھی اور ان کا وجود اُمت کے لئے قربان ہونے کی خاطر بنایا گیا تھا۔اُن کی جو پوزیشن تھی وہ اس بات کی طلب گار تھی کہ وہ اپنا نفس، اپنی خواہشات اور اپنے سر آرام کو دین اور امت کے لئے نثار کر دیں۔وہ امت کی عورتوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نائب تھیں اور جس طرح خود حضور کی زندگی محض خلق خدا کے لئے تھی۔اسی طرح آپ کی ازواج بھی محض دین کے لئے وقف تھیں۔اسی لئے تو قرآن مجید فرماتا ہے کہ يا نساء النبي لستن كاحد من النساء۔یعنی نبی کی بی ہیو تم دنیا کی اور عورتوں کی طرح نہیں ہو جبکہ تمھارا خاص مشن ہے میں