مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 250
۲۴۹ مقام بھی بتا دو۔ہم اس سے راضی ہیں اور وہ ہم سے (۳۳) یہ فیصلہ سننے کے بعد ہم آگے بڑھے۔ایک مسلمان کو دیکھا کہ اس کا ہر عمل عیب دار تھا اور سوائے اس کے اس نے شرک نہیں کیا تھا۔باقی ہر طرح اس کی زندگی گنہگار نہ تھی۔قریب تھا کہ جہنم کے فرشتے اسے کھینچ کر لے جائیں کہ یہ میر عب و پر شوکت آواز فضا میں بلند ہوئی۔مَن عَلِمَ انِي ذُوقدُرَتِهِ عَلَى مَغْفِرَةِ الذُّنُوبِ غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أَبَالِي مَا لَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئاً اور یہ شخص کو بڑا گنہگار ہے مگر اسے ہمیشہ یہ یقین تھا کہ میرا خدا غفور الرحیم ہے پس اس یقین کی وجہ سے میں اسے بخشا اور جنت میں داخل کرتا ہوں۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی کھڑا تھا جس کے نامہ اعمال میں پہلے ورق سے آخر ورق یک نا فرمانیاں اور فعلتیں ہی غفلتیں لکھی تھیں، لیکن ہر صفحہ پر اس کے ایک دو استغفار بھی ضرور لکھے ہوتے تھے جو گا ہے لگا ہے خدا سے مانگ لیا کہ تا تھا۔حکم ہوا کہ میں نے اپنے اس بندے کے سب گاہ اس کے استغفار وں کی وجہ سے محو کر دیئے۔(۳۴) پھر ایک اندھے کی بابت جھگڑا شروع ہوا۔بارگاہ الہی کی طرف سے حکم آیا کہ ہم نے اس کی دو نہایت پیاری عزیز آنکھیں لے لیں۔اب یہ متقی ہے کہ ہم اس کی مغفرت کریں۔(۳۵) آگے چل کر نا انتہا بیماروں اور مصیبت زدہ مفلسوں کا ایک جم غفیر تھا جن کے لئے یہ حکم ہوا کہ جن لوگوں کی مغفرت کا مجھے خیال ہوتا ہے ان کو میں دنیا سے رخصت نہیں کرتا۔جب تک ان کے ایک ایک گناہ کے بدلے ان کو جسمانی امراض اور رزق کی تنگی دے کر انہیں جنت میں جانے کے قابل نہیں بنا لیتا۔